Thursday, 6 January 2022

عدو کی صف سے مقابل غضب کا نکلا ہے

 عدو کی صف سے مقابل غضب کا نکلا ہے

غضب تو یہ ہے کہ میرے نسب کا نکلا ہے

نہ کوئی خوابِ زلیخا، نہ کوئی تختِ عزیز

ہمارے مصر کا یوسفؑ تو کب کا نکلا ہے

عجیب لوگ ہیں سب تیرگی پہ مرتے ہیں

عجیب شہر ہے سورج بھی شب کا نکلا ہے

وہ ایک میں کہ فصیلوں کو خاک میں روندا

وہ ایک تُو ہے کہ، کاسہ طلب کا نکلا ہے

اسے یہ دُھن کہ مِرے غم کا ذائقہ بدلے

مجھے یہ دُکھ کہ وہ شہرِ طرب کا نکلا ہے

تو یُوں ہوا تھا کہ ہم آ گئے تھے نرغے میں

تو یُوں ہوا ہے کہ رہبر بھی تب کا نکلا ہے


حماد حسن

No comments:

Post a Comment