وفا کی راہ میں دل کا سپاس رکھ دوں
میں ہر ندی کے کنارے پہ پیاس رکھ دوں
کرے گی تشنہ لبی فیصلے صداقت کے
جھلستے خیمے ترائی کے پاس رکھ دوں گا
گلاب سرخ تبسم سے دیں گے میرا پتہ
شفق میں اپنا میں خونی لباس رکھ دوں
جہاں دلوں کو اندھیروں کا سامنا ہو گا
وہاں میں اپنے چراغِ حواس رکھ دوں
زبان والوں کا چہرہ کبھی نہ اترے گا
غموں کے ہونٹوں پہ ایسی مٹھاس رکھ دوں گا
مِرے لہو کی عدالت سجے گی آنکھوں میں
گواہیوں کو میں اشکوں کے پاس رکھ دوں گا
ناشر نقوی
No comments:
Post a Comment