Thursday, 6 January 2022

وفا کی راہ میں دل کا سپاس رکھ دوں

 وفا کی راہ میں دل کا سپاس رکھ دوں

میں ہر ندی کے کنارے پہ پیاس رکھ دوں

کرے گی تشنہ لبی فیصلے صداقت کے

جھلستے خیمے ترائی کے پاس رکھ دوں گا

گلاب سرخ تبسم سے دیں گے میرا پتہ

شفق میں اپنا میں خونی لباس رکھ دوں

جہاں دلوں کو اندھیروں کا سامنا ہو گا

وہاں میں اپنے چراغِ حواس رکھ دوں

زبان والوں کا چہرہ کبھی نہ اترے گا

غموں کے ہونٹوں پہ ایسی مٹھاس رکھ دوں گا

مِرے لہو کی عدالت سجے گی آنکھوں میں

گواہیوں کو میں اشکوں کے پاس رکھ دوں گا


ناشر نقوی

No comments:

Post a Comment