کسی کو حال سنانے میں مسئلہ ہو گا
غموں کو اشک بہانے میں مسئلہ ہو گا
تو دل کی بات کو خود دل کی دھڑکنوں سے سمجھ
مجھے وہ بات بتانے میں مسئلہ ہو گا
یہاں سے ہے میری بچپن کی یاد وابستہ
یہ شہر چھوڑ کے جانے میں مسئلہ ہو گا
کسی کو حال سنانے میں مسئلہ ہو گا
غموں کو اشک بہانے میں مسئلہ ہو گا
تو دل کی بات کو خود دل کی دھڑکنوں سے سمجھ
مجھے وہ بات بتانے میں مسئلہ ہو گا
یہاں سے ہے میری بچپن کی یاد وابستہ
یہ شہر چھوڑ کے جانے میں مسئلہ ہو گا
کس جگہ ہم سفر و رختِ سفر چھوڑ دیا
یہ بھی معلوم نہیں خود کو کدھر چھوڑ دیا
جانے والے کے تعاقب میں گیا تھا اک دن
خود پلٹ آیا ہوں آنکھوں کو اُدھر چھوڑ دیا
چاہتا تھا کہ محبت کا نشاں باقی رہے
میں نے سب زخم بھرے، زخمِ جگر چھوڑ دیا
گلاب زرد پڑے ہیں سب انتظار کے، دوست
خزاں میں آ کے ملے ہیں مجھے بہار کے دوست
تمہیں نشانہ لگانا سِکھا رہے ہیں جو لوگ
تمہاری صف میں کھڑے ہیں مِری قطار کے دوست
مِرے نصیب میں خوشیاں وہ لوگ بھر رہے ہیں
جو لوگ پھول کے دشمن ہیں اور خار کے دوست
مرے محلے میں رہنی والی گلاب جیسی حسین لڑکی
مصوری سے لگاؤ رکھتی تھی
اور فوٹو بنا بنا کر تمام گھر کو سجایا کرتی
وہ سارا دن بس یہ کام کرتی تھی
ہاتھ اس کے تو کتنے رنگوں سے بھر سے جاتے
عجیب لڑکی
کبھی کبھار محبت سے گال کھینچے گا
غضب میں آیا تو ہر اک کے بال کھینچے گا
تُو صبر و شکر کا دامن پکڑ حرام سے بچ
تُو دیکھنا تجھے رزقِ حلال کھینچے گا
رہے گا دن کو بڑا خوش پہ تجھ کو شام کے بعد
میں یاد آؤں گا میرا خیال کھینچے گا