Showing posts with label رئیس جامی. Show all posts
Showing posts with label رئیس جامی. Show all posts

Wednesday, 22 February 2023

کسی کو حال سنانے میں مسئلہ ہو گا

 کسی کو حال سنانے میں مسئلہ ہو گا

غموں کو اشک بہانے میں مسئلہ ہو گا

تو دل کی بات کو خود دل کی دھڑکنوں سے سمجھ

مجھے وہ بات بتانے میں مسئلہ ہو گا

یہاں سے ہے میری بچپن کی یاد وابستہ

یہ شہر چھوڑ کے جانے میں مسئلہ ہو گا

Sunday, 8 January 2023

کس جگہ ہم سفر و رخت سفر چھوڑ دیا

 کس جگہ ہم سفر و رختِ سفر چھوڑ دیا

یہ بھی معلوم نہیں خود کو کدھر چھوڑ دیا

جانے والے کے تعاقب میں گیا تھا اک دن

خود پلٹ آیا ہوں آنکھوں کو اُدھر چھوڑ دیا

چاہتا تھا کہ محبت کا نشاں باقی رہے

میں نے سب زخم بھرے، زخمِ جگر چھوڑ دیا

Thursday, 5 January 2023

گلاب زرد پڑے ہیں سب انتظار کے دوست

 گلاب زرد پڑے ہیں سب انتظار کے، دوست 

خزاں میں آ کے ملے ہیں مجھے بہار کے دوست

تمہیں نشانہ لگانا سِکھا رہے ہیں جو لوگ

تمہاری صف میں کھڑے ہیں مِری قطار کے دوست

مِرے نصیب میں خوشیاں وہ لوگ بھر رہے ہیں 

جو لوگ پھول کے دشمن ہیں اور خار کے دوست 

Monday, 21 March 2022

گلاب جیسی حسین لڑکی

 مرے محلے میں رہنی والی گلاب جیسی حسین لڑکی

مصوری سے لگاؤ رکھتی تھی 

اور فوٹو بنا بنا کر تمام گھر کو سجایا کرتی

وہ سارا دن بس یہ کام کرتی تھی 

ہاتھ اس کے تو کتنے رنگوں سے بھر سے جاتے

عجیب لڑکی

Monday, 16 November 2020

کبھی کبھار محبت سے گال کھینچے گا

 کبھی کبھار محبت سے گال کھینچے گا

غضب میں آیا تو ہر اک کے بال کھینچے گا

تُو صبر و شکر کا دامن پکڑ حرام سے بچ

تُو دیکھنا تجھے رزقِ حلال کھینچے گا

رہے گا دن کو بڑا خوش پہ تجھ کو شام کے بعد

میں یاد آؤں گا میرا خیال کھینچے گا