کبھی کبھار محبت سے گال کھینچے گا
غضب میں آیا تو ہر اک کے بال کھینچے گا
تُو صبر و شکر کا دامن پکڑ حرام سے بچ
تُو دیکھنا تجھے رزقِ حلال کھینچے گا
رہے گا دن کو بڑا خوش پہ تجھ کو شام کے بعد
میں یاد آؤں گا میرا خیال کھینچے گا
میں نفرتوں کی لکیریں نہ کھینچ پاؤں گا
مگر وہ شخص جو کھینچے کمال کھینچے گا
ہمارا دوست بھی اپنے عروج کی خاطر
ہمارے گرد حصارِ زوال کھینچے گا
تُو عشق عشق تو کرتا ہے آج کل لیکن
ہوا تو دیکھنا یہ تیری کھال کھینچے گا
پرائے دیس میں جا کر کمانے والے کو
لگے گی بھوک تو ماں کا خیال کھنچے گا
رئیس جامی
No comments:
Post a Comment