Sunday, 15 November 2020

میں خواہشوں کے جال سے آگے نکل گئی

 اک لمحۂ وصال سے آگے نکل گئی

میں خواہشوں کے جال سے آگے نکل گئی

چہرے پہ اس کے رنج کے آثار دیکھ کر

چپ چاپ ہر سوال سے آگے نکل گئی

کچھ میں بھی ناشناس تھی اس کارِ خیر میں

ہر رنج، ہر ملال سے آگے نکل گئی

ایسے غمِ حیات نے بانہوں میں لے لیا

میں اپنی دیکھ بھال سے آگے نکل گئی

کچھ دن ترے وصال نے مدہوش کر دیا

میں خواہشِ مآل سے آگے نکل گئی

تُو بھی مرے وجود سے آزاد ہو گیا

میں بھی ترے خیال سے آگے نکل گئی


جہاں آرا تبسم

No comments:

Post a Comment