سمندر کا سکوت
آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت
ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہو گا
ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہو گا
مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے
مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے
میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں
سمندر کا سکوت
آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت
ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہو گا
ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہو گا
مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے
مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے
میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں
لوٹ چلیے
چند لقمے، کچھ کتابیں
ایک بستر، ایک عورت
اور کرائے کا یہ خالی تنگ کمرا
آج اپنی زیست کا مرکز ہیں، لیکن
تیرگی کا غم انہیں بھی کھا رہا ہے
چار جانب زہر پھیلا جا رہا ہے
گناہوں کے ٹیلے پر
اب جسموں کے تہہ خانوں میں
جاگ اٹھا ہے کالا جادو
بھاری بھرکم دیواروں نے
قاتل نغمہ چھیڑ دیا ہے
بحرصدا پھر مست ہوا ہے
ڈوب گئے اخلاقی قدروں کے سب ہاتھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اقتباس از"لولاک" منظوم سیرت رسول پاکﷺ حصۂ اول ولادت سے پہلے
حضرتِ آدم سے پیدا ہو گیا جب آدمی
سمتِ امکانات میں بڑھنے لگا جب آدمی
سینۂ صحرا میں ہر دم جگمگاتا تھا کوئی
تیرہ و تاریک لمحوں سے گزرنے کے لیے
٭
آدمی کے راستوں میں رنگ بھرنے کے لیے
بدھیا
چلو اچھا ہوا میں چل بسی اور میرا مستقبل
مِرے ہمراہ میرے پیٹ میں دم توڑ بیٹھا ہے
وگرنہ کس نے جانا ہے
کہ وہ بھی زندگی بھر گرم آلو چھیلتا رہتا
انہیں کو لیلتا رہتا
چلو اچھا ہوا ایسی غلاظت سے