Showing posts with label چندربھان خیال. Show all posts
Showing posts with label چندربھان خیال. Show all posts

Friday, 7 August 2026

آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

 سمندر کا سکوت


آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہو گا

ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہو گا

مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے

مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے

میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں

Saturday, 8 February 2025

چار جانب زہر پھیلا جا رہا ہے

 لوٹ چلیے


چند لقمے، کچھ کتابیں

ایک بستر، ایک عورت

اور کرائے کا یہ خالی تنگ کمرا

آج اپنی زیست کا مرکز ہیں، لیکن

تیرگی کا غم انہیں بھی کھا رہا ہے

چار جانب زہر پھیلا جا رہا ہے

Tuesday, 20 August 2024

سانپ ابھی تک جھوم رہا ہے

 گناہوں کے ٹیلے پر


اب جسموں کے تہہ خانوں میں

جاگ اٹھا ہے کالا جادو

بھاری بھرکم دیواروں نے

قاتل نغمہ چھیڑ دیا ہے

بحرصدا پھر مست ہوا ہے

ڈوب گئے اخلاقی قدروں کے سب ہاتھی

Monday, 19 August 2024

حضرت آدم سے پیدا ہو گیا جب آدمی

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

اقتباس از"لولاک" منظوم سیرت رسول پاکﷺ  حصۂ اول ولادت سے پہلے


حضرتِ آدم سے پیدا ہو گیا جب آدمی

سمتِ امکانات میں بڑھنے لگا جب آدمی

سینۂ صحرا میں ہر دم جگمگاتا تھا کوئی

تیرہ و تاریک لمحوں سے گزرنے کے لیے

٭

آدمی کے راستوں میں رنگ بھرنے کے لیے

Sunday, 18 August 2024

چلو اچھا ہوا میں چل بسی اور میرا مستقبل

 بدھیا


چلو اچھا ہوا میں چل بسی اور میرا مستقبل

مِرے ہمراہ میرے پیٹ میں دم توڑ بیٹھا ہے

وگرنہ کس نے جانا ہے

کہ وہ بھی زندگی بھر گرم آلو چھیلتا رہتا

انہیں کو لیلتا رہتا

چلو اچھا ہوا ایسی غلاظت سے