میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے
لیکن مذاق حسن کو رسوا نہ کیجیے
دل تو یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے گلہ کروں
غیرت یہ کہہ رہی ہے کہ شکوہ نہ کیجیے
ٹوٹے گا نفس کا یہ تسلسل خبر نہیں
چلتی ہوئی ہوا کا بھروسہ نہ کیجیے
میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے
لیکن مذاق حسن کو رسوا نہ کیجیے
دل تو یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے گلہ کروں
غیرت یہ کہہ رہی ہے کہ شکوہ نہ کیجیے
ٹوٹے گا نفس کا یہ تسلسل خبر نہیں
چلتی ہوئی ہوا کا بھروسہ نہ کیجیے
پھولوں سے رسم و راہ کیے جا رہا ہوں میں
امرت سمجھ کے زہر پئے جا رہا ہوں میں
اک انس ہو گیا ہے غم عاشقی کے ساتھ
دانستہ اک گناہ کیے جا رہا ہوں میں
جس کی مجھے زمانے سے قیمت نہ مل سکی
وہ کائنات درد لیے جا رہا ہوں میں
جسے تیرے غم نے سنوارا نہیں ہے
نہیں ہے وہ آنسو ہمارا نہیں ہے
کٹے زندگی دوسروں کے کرم پہ
ہمیں ایسا جینا گوارا نہیں ہے
بتاؤ ہمیں اب تمہیں یہ بتاؤ
کہاں ہم نے تم کو پکارا نہیں ہے
اچھا یہ طریقہ ہے ساقی رندوں میں ہمارا نام بھی ہے
پینے بھی نہیں دیتا ہم کو، پینے کا مگر الزام بھی ہے
دنیا کو دکھانے کی خاطر توڑوں گا نہ پیمانہ زاہد
توہینِ مذاقِ زہد بھی ہے توہینِ شکستِ جام بھی ہے
آرام میں سو جانا کیسا، تکلیف میں گھبرانا کیسا
اس چلتی پھرتی دنیا میں تکلیف بھی ہے آرام بھی ہے