Showing posts with label مظہر عثمانی. Show all posts
Showing posts with label مظہر عثمانی. Show all posts

Wednesday, 25 March 2026

میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے

 میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے

لیکن مذاق حسن کو رسوا نہ کیجیے

دل تو یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے گلہ کروں

غیرت یہ کہہ رہی ہے کہ شکوہ نہ کیجیے

ٹوٹے گا نفس کا یہ تسلسل خبر نہیں

چلتی ہوئی ہوا کا بھروسہ نہ کیجیے

Monday, 4 August 2025

پھولوں سے رسم و راہ کیے جا رہا ہوں میں

 پھولوں سے رسم و راہ کیے جا رہا ہوں میں

امرت سمجھ کے زہر پئے جا رہا ہوں میں

اک انس ہو گیا ہے غم عاشقی کے ساتھ

دانستہ اک گناہ کیے جا رہا ہوں میں

جس کی مجھے زمانے سے قیمت نہ مل سکی

وہ کائنات درد لیے جا رہا ہوں میں

Friday, 1 August 2025

جسے تیرے غم نے سنوارا نہیں ہے

 جسے تیرے غم نے سنوارا نہیں ہے

نہیں ہے وہ آنسو ہمارا نہیں ہے

کٹے زندگی دوسروں کے کرم پہ

ہمیں ایسا جینا گوارا نہیں ہے

بتاؤ ہمیں اب تمہیں یہ بتاؤ

کہاں ہم نے تم کو پکارا نہیں ہے

Tuesday, 11 January 2022

اچھا یہ طریقہ ہے ساقی رندوں میں ہمارا نام بھی ہے

اچھا یہ طریقہ ہے ساقی رندوں میں ہمارا نام بھی ہے

پینے بھی نہیں دیتا ہم کو، پینے کا مگر الزام بھی ہے

دنیا کو دکھانے کی خاطر توڑوں گا نہ پیمانہ زاہد

توہینِ مذاقِ زہد بھی ہے توہینِ شکستِ جام بھی ہے

آرام میں سو جانا کیسا، تکلیف میں گھبرانا کیسا

اس چلتی پھرتی دنیا میں تکلیف بھی ہے آرام بھی ہے