اچھا یہ طریقہ ہے ساقی رندوں میں ہمارا نام بھی ہے
پینے بھی نہیں دیتا ہم کو، پینے کا مگر الزام بھی ہے
دنیا کو دکھانے کی خاطر توڑوں گا نہ پیمانہ زاہد
توہینِ مذاقِ زہد بھی ہے توہینِ شکستِ جام بھی ہے
آرام میں سو جانا کیسا، تکلیف میں گھبرانا کیسا
اس چلتی پھرتی دنیا میں تکلیف بھی ہے آرام بھی ہے
یہ تیری حیاتِ چند نفس عبرت ہے جہاں والوں کے لیے
اے پھول! تیرے آئینہ میں تکلیف بھی ہے، آرام بھی ہے
اے نیچی نظر والے ظالم! تُو تیرِ نظر برسائے جا
زخمی ہوئے ہم تو کیا ہو گا زخمی تو ہمارا نام بھی ہے
حکیم مظہر سبحان عثمانی زخمی
No comments:
Post a Comment