Tuesday, 11 January 2022

اچھا یہ طریقہ ہے ساقی رندوں میں ہمارا نام بھی ہے

اچھا یہ طریقہ ہے ساقی رندوں میں ہمارا نام بھی ہے

پینے بھی نہیں دیتا ہم کو، پینے کا مگر الزام بھی ہے

دنیا کو دکھانے کی خاطر توڑوں گا نہ پیمانہ زاہد

توہینِ مذاقِ زہد بھی ہے توہینِ شکستِ جام بھی ہے

آرام میں سو جانا کیسا، تکلیف میں گھبرانا کیسا

اس چلتی پھرتی دنیا میں تکلیف بھی ہے آرام بھی ہے

یہ تیری حیاتِ چند نفس عبرت ہے جہاں والوں کے لیے

اے پھول! تیرے آئینہ میں تکلیف بھی ہے، آرام بھی ہے

اے نیچی نظر والے ظالم! تُو تیرِ نظر برسائے جا

زخمی ہوئے ہم تو کیا ہو گا زخمی تو ہمارا نام بھی ہے


حکیم مظہر سبحان عثمانی زخمی

No comments:

Post a Comment