نفرتیں احباب کی یوں دوستی کے ساتھ ہیں
جیسے نادیدہ اندھیرے روشنی کے ساتھ ہیں
اب قلندر کی صدا میں کیا کشش پائیں گے لوگ
آج تو سب مال و زر کی دلکشی کے ساتھ ہیں
کون خوشیوں پر کرے تکیہ جو کل تک ہوں نہ ہوں
درد و غم اپنائیے، جو زندگی کے ساتھ ہیں
خود فریبی ہے کہ میں اس کے لیے سجدے میں ہوں
ورنہ کتنی خواہشیں اس بندگی کے ساتھ ہیں
ضرب تیرِ نِیم کش کا لطف کچھ ہم کو بھی دے
ہم بھی اپنی آرزوئے خودکشی کے ساتھ ہیں
کیسے آ جائیں ابابیلیں لیے کنکر کہ ہم
جنگِ بے مقصد میں شامل بے دلی کے ساتھ ہیں
ہو سکے تو دوستوں میں کچھ تبسم بانٹ دو
غم کے افسانے تو ورنہ ہر کسی کے ساتھ ہیں
برہمی و بے رخی سے واسطہ پڑنا ہی تھا
عشوہ و ناز و ادا تو عاشقی کے ساتھ ہیں
وہ ہمارا ہمسفر ہونے نہیں پایا،۔ مگر
ہم اسی کے ساتھ تھے اشعر اسی کے ساتھ ہیں
منیف اشعر
No comments:
Post a Comment