Tuesday, 11 January 2022

نفرتیں احباب کی یوں دوستی کے ساتھ ہیں

 نفرتیں احباب کی یوں دوستی کے ساتھ ہیں

جیسے نادیدہ اندھیرے روشنی کے ساتھ ہیں

اب قلندر کی صدا میں کیا کشش پائیں گے لوگ

آج تو سب مال و زر کی دلکشی کے ساتھ ہیں

کون خوشیوں پر کرے تکیہ جو کل تک ہوں نہ ہوں

درد و غم اپنائیے، جو زندگی کے ساتھ ہیں

خود فریبی ہے کہ میں اس کے لیے سجدے میں ہوں

ورنہ کتنی خواہشیں اس بندگی کے ساتھ ہیں

ضرب تیرِ نِیم کش کا لطف کچھ ہم کو بھی دے

ہم بھی اپنی آرزوئے خودکشی کے ساتھ ہیں

کیسے آ جائیں ابابیلیں لیے کنکر کہ ہم

جنگِ بے مقصد میں شامل بے دلی کے ساتھ ہیں

ہو سکے تو دوستوں میں کچھ تبسم بانٹ دو

غم کے افسانے تو ورنہ ہر کسی کے ساتھ ہیں

برہمی و بے رخی سے واسطہ پڑنا ہی تھا

عشوہ و ناز و ادا تو عاشقی کے ساتھ ہیں

وہ ہمارا ہمسفر ہونے نہیں پایا،۔ مگر

ہم اسی کے ساتھ تھے اشعر اسی کے ساتھ ہیں


منیف اشعر

No comments:

Post a Comment