Showing posts with label دانش نقوی. Show all posts
Showing posts with label دانش نقوی. Show all posts

Wednesday, 2 August 2023

تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناؤ

 تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناؤ

یہاں کہیں سے ہوا بھی آئے اداس آتی ہے تم سناؤ

تمہیں بتایا تھا پیڑ پودوں کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے

اور اب درختوں کے خشک پتوں سے باس آتی ہے تم سناؤ

میں کیا سناؤں کہ میرے جیسی سدا کی بنجر زمین پر بھی

تمہارے جیسوں کے بول پڑنے سے گھاس آتی ہے تم سناؤ

Tuesday, 18 April 2023

ورنہ ویسے تو کسی سے بھی بگڑ سکتا ہوں

 ورنہ ویسے تو کسی سے بھی بگڑ سکتا ہوں

سامنے تو ہے بھلا تجھ سے بھی لڑ سکتا ہوں

میرا پھیلاؤ ہے مشروط جگہ سے ورنہ

وقت پڑ جانے پہ اتنا ہی سکڑ سکتا ہوں

میں نے اک بار اسے ہاتھ لگا کر دیکھا

پھر یقیں آیا کہ خوشبو کو پکڑ سکتا ہوں

Sunday, 9 April 2023

کسی کو جھوٹی نمائشوں کا کسی کو شہرت کا مسئلہ ہے

 کسی کو جھوٹی نمائشوں کا کسی کو شہرت کا مسئلہ ہے

ہمیں سلیقے سے شعر کہنے کا، اور محبت کا مسئلہ ہے

بقایا بے شک نظر میں رکھو نگاہ چہرے پہ مت ٹکانا

وہ بات یہ ہے کہ میری آنکھوں کو تھوڑا وحشت کا مسئلہ ہے

اتر رہی ہیں جو آسماں سے بلائیں سیدھے ہمارے سر پر

تمہیں دکھا بھی نہیں سکیں گے، یہی تو قامت کا مسئلہ ہے

Monday, 9 January 2023

سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے

 سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے

دراصل اداکار حقیقت میں مرے تھے

جاتے ہوئے کمرے کی کسی چیز کو چھو دے

میں یاد کروں گا کہ تیرے ہاتھ لگے تھے 

آنکھیں بھی تِری فتح نہ کر پائے ابھی تک

کس لمحۂ بے کار میں ہم لوگ بنے تھے

Friday, 30 December 2022

پہلے پہلے نہیں لگتی تھی ابھی لگتی ہے

 پہلے پہلے نہیں لگتی تھی ابھی لگتی ہے

شام ہوتی ہے تو دیوار بڑی لگتی ہے

دن میں سو بار تو کرتا ہوں مکمل خود کو

پھر بھی دیکھو تو کسی شئے کی کمی لگتی ہے

چاہے کچھ دیر سہی لازمی شئے ہے رونق

گھر میں ہر وقت بھی ویرانی بری لگتی ہے

Thursday, 15 December 2022

نہ راستے میں ملا ہوں نہ گھر گیا ہوں میں

 نہ راستے میں مِلا ہوں نہ گھر گیا ہوں میں

تمہیں پتہ ہے، بتاؤ کدھر گیا ہوں میں؟

اسی کو میری محبت کا معجزہ سمجھو

کہ تم نے مر ہی کہا اور مر گیا ہوں میں

میں ایک وقت تھا مجھ کو پُکار مت پگلی

کہ لوٹ سکتا نہیں، اب گزر گیا ہوں میں

Saturday, 16 July 2022

پسر کی لاش کو خیمے میں کیسے لائے حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین


پسر کی لاش کو خیمے میں کیسے لائے حسینؑ

یہ سوچتا ہوں تو کہتا ہوں؛ ہائے ہائے حسین

میرے حسین نے جب سے مدینہ چھوڑا ہے

کسی نے دیکھا نہیں ہے کہ مسکرائے حسین

چراغ بُجھ کے جلا ہے تو یہ ہوا ثابت

وہ چھوڑ کر نہیں جاتا جسے بلائے حسین

Wednesday, 13 July 2022

ڈرا ہوا ہوں تبھی تو سمٹ کے آیا ہوں

 ڈرا ہوا ہوں تبھی تو سمٹ کے آیا ہوں

میں اک چراغ کی لو سے لپٹ کے آیا ہوں

نجانے کون سے رستے میں شام ہو گئی ہے

اسے ملا ہوں، نہ واپس پلٹ کے آیا ہوں

کبھی کسی کو میں یکلخت بھی میسر تھا

تمہارے پاس تو حصوں میں بٹ کے آیا ہوں

Tuesday, 28 June 2022

کبھی کبھی تو نہ ہو گی کبھی ہوا کرے گی

 کبھی کبھی تو نہ ہو گی کبھی ہُوا کرے گی

ضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گی

رہے گی ایسے ہی رونق تیرے محلے کی

گزرنے والے نہ ہوں گے گلی ہوا کرے گی

جو ہم نہ ہوں گے تو پھر کون تم سے مانگے گا

تمہیں ہماری ضرورت سخی! ہوا کرے گی

Tuesday, 3 May 2022

نہ راستے میں ملا ہوں نہ گھر گیا ہوں میں

 نہ راستے میں ملا ہوں نہ گھر گیا ہوں میں

تمہیں پتہ ہے، بتاؤ، کدھر گیا ہوں میں؟

اسی کو میری محبت کا معجزہ سمجھو

کہ تم نے مر ہی کہا اور مر گیا ہوں میں

میں ایک وقت تھا مجھ کو پکار مت پگلی

کہ لوٹ سکتا نہیں، اب گزر گیا ہوں میں

Monday, 2 May 2022

رفیق سمجھا گیا دشمنی میں مارا گیا

 رفیق سمجھا گیا، دشمنی میں مارا گیا

مجھے پتہ تو چلے کس خوشی میں مارا گیا

میں کہہ رہا ہوں بھرے شہر سے گواہی لو

میں کہہ رہا ہوں مجھے روشنی میں مارا گیا

ٹھکانا جس کا جہاں تھا، اسے وہیں رکھا

چنانچہ سر تیری دیوار ہی میں مارا گیا

Monday, 28 March 2022

آدھا حصہ بھیج رہا ہوں صرف کہانی کاروں پر

 آدھا حصہ بھیج رہا ہوں صرف کہانی کاروں پر

باقی لعنت سچ کو روکنے والے سب کرداروں پر

جانے کیا آفت اتری ہے دل کو چین نہیں آتا

درگاہوں پر دھاگے باندھے منت دی درباروں پر

سارے جنگل چھان لیے ہیں سارے صحرا دیکھ لیے

دنیا پھر بھی تنگ رہی ہے تیرے تابعداروں پر

Friday, 25 March 2022

وہ شخص جس کی حفاظتوں میں ہمارے بازو کٹے ہوئے تھے

 وہ شخص جس کی حفاظتوں میں ہمارے بازو کٹے ہوئے تھے

پلٹ کے دیکھا تو اس کے ہاتھوں کو ہاتھ پھر بھی لگے ہوئے تھے

تمہارے پاؤں کا لمس پا کر ہی ان میں بڑھوتری ہوئی ہے

تمہارے آنے سے پہلے پودوں کے قد وہیں پر رکے ہوئے تھے

ہمیں تو پردیس میں یہ خواہش تھی سب کو روئیں گے نام لے کر

پلٹ کے آئے تو اپنی قبروں کے سارے کتبے مٹے ہوئے تھے

Tuesday, 22 March 2022

پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کے

 پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کے

پھر بھی کون سمجھ سکتا ہے دکھ سوکھے دریاؤں کے

جتنی بار لکھا ہے میں نے تیرا نام درختوں پر

تجھ کو نام سے جانتے ہوں گے پنچھی میرے گاؤں کے

اپنی مرضی کرنے والے ان کی بات نہیں سنتے

ہم جیسوں پر چل جاتے ہیں سارے زور خداؤں کے

Monday, 21 March 2022

وحشت تو کیا سوچ کے مجھ سے حصہ مانگنے آئی ہے

 وحشت تو کیا سوچ کے مجھ سے حصہ مانگنے آئی ہے

میرے پاس تو خود اپنی مقدار سے کم تنہائی ہے

کس نے سوچا عشق کے کھیل میں اس کا ساتھ نبھاؤں گا 

کس نے میرا نام پکارا؟، کس کی شامت آئی ہے؟

تم اب قیس کی شہرت دیکھنے لگ جاؤ تو مرضی ہے

ورنہ میں نے کچھ دن اس سے اچھی خاک اڑائی ہے

Monday, 7 March 2022

حد سے بڑھ کر ہو تو ویرانی سے خوش ہوتے ہیں

 حد سے بڑھ کر ہو تو ویرانی سے خوش ہوتے ہیں

ہم کسی شئے کی فراوانی سے خوش ہوتے ہیں

ایک تو ہے جسے اچھے سے سمجھ کر خوش ہیں

ورنہ ہم لوگ تو حیرانی سے خوش ہوتے ہیں

جب بھی ہم لوگ ہنسیں، ہم کو دلاسہ دینا

ہم کسی اپنی پریشانی سے خوش ہوتے ہیں

Sunday, 20 February 2022

زمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیا

 نظر تو آیا مگر جا بجا نہیں آیا

زمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیا

بہاؤ لایا ہے اس کو کنارے کی جانب

وہ شخص میری طرف تیرتا نہیں آیا

اک اور بار بچھڑ کر نہ دیکھ لیں دونوں

یہ زخم اب بھی ہمیں ایک سا نہیں آیا

Tuesday, 19 October 2021

مکھ اجلا آنکھیں متوالی میرے یار کے لب یاقوتی ہو

 مُکھ اُجلا، آنکھیں متوالی، میرے یار کے لب یاقُوتی ہو

گرے تال پہ سرگم زلفوں کے قد اونچا چال اچُھوتی ہو

دل چین پڑے جی رقص کرے من میل جلے تن موج کرے

میری روح سے جسم کا بوجھ ہٹے ذرا ہاتھ لگا ملکُوتی ہو

تیرا جسم ہے دیوتا جسموں کا میرے ہاتھ پجاریوں والے ہیں

تیرا دامن پاک دو عالم سے، میرے دل میں بے کرتوتی ہو

Saturday, 14 August 2021

آدھا حصہ بھیج رہا ہوں صرف کہانی کاروں پر

 آدھا حصہ بھیج رہا ہوں صرف کہانی کاروں پر

باقی لعنت سچ کو روکنے والے سب کرداروں پر

جانے کیا آفت اُتری ہے دل کو چین نہیں آتا

درگاہوں پر دھاگے باندھے منت دی درباروں پر

سارے جنگل چھان لیے ہیں سارے صحرا دیکھ لیے

دنیا پھر بھی تنگ رہی ہے تیرے تابعداروں پر

Saturday, 31 July 2021

تمہارے جیسے تو ویسے بھی کم سمجھتے ہیں

 تمہارے جیسے تو ویسے بھی کم سمجھتے ہیں

ہمارے اپنے مسائل ہیں ہم سمجھتے ہیں

ہمارے سینے سے دنیا لپٹ کے روتی ہے

فقیر لوگ ہیں، لوگوں کا غم سمجھتے ہیں

تُو جتنے اشکوں سے گریہ گزار بنتا ہے

ہم اتنا رو لیں تو آنکھوں کو نم سمجھتے ہیں