پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کے
پھر بھی کون سمجھ سکتا ہے دکھ سوکھے دریاؤں کے
جتنی بار لکھا ہے میں نے تیرا نام درختوں پر
تجھ کو نام سے جانتے ہوں گے پنچھی میرے گاؤں کے
اپنی مرضی کرنے والے ان کی بات نہیں سنتے
ہم جیسوں پر چل جاتے ہیں سارے زور خداؤں کے
تیرے ہاتھ میں خود کو دے کر نادانی کر بیٹھا ہوں
دھوپ کی گود میں کب پلتے ہیں بیٹے ٹھنڈی چھاؤں کے
دانش نقوی دیکھ رہے ہیں حیرانی اور حسرت سے
اس کی اپنی دو جھیلیں ہیں، ہم بندے صحراؤں کے
دانش نقوی
No comments:
Post a Comment