Tuesday, 22 March 2022

پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کے

 پیاسے چہروں پر لگتے ہیں خالی ہاتھ دعاؤں کے

پھر بھی کون سمجھ سکتا ہے دکھ سوکھے دریاؤں کے

جتنی بار لکھا ہے میں نے تیرا نام درختوں پر

تجھ کو نام سے جانتے ہوں گے پنچھی میرے گاؤں کے

اپنی مرضی کرنے والے ان کی بات نہیں سنتے

ہم جیسوں پر چل جاتے ہیں سارے زور خداؤں کے

تیرے ہاتھ میں خود کو دے کر نادانی کر بیٹھا ہوں

دھوپ کی گود میں کب پلتے ہیں بیٹے ٹھنڈی چھاؤں کے

دانش نقوی دیکھ رہے ہیں حیرانی اور حسرت سے

اس کی اپنی دو جھیلیں ہیں، ہم بندے صحراؤں کے


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment