جاتا ہے یار سیر کو گلزار کی طرف
میری نگاہ ہے گلِ رخسار کی طرف
ہوتی ہے میرے سامنے تصویر یار کی
جب دیکھتا ہوں میں در و دیوار کی طرف
یارب ہو خیر آج کہ کچھ دیکھتا ہے وہ
میری طرف کبھی کبھی تلوار کی طرف
کرتا ہے قتل عاشق مسکیں کو بزم میں
دُزدیدہ دیکھنا تِرا اغیار کی طرف
حسرت ہے یہ مریں بھی جو قید قفس میں ہم
صیاد پھینک دے ہمیں گل زار کی طرف
چاک قفس سے دیکھ تو اے عندلیب زار
کچھ لگ رہی ہے آگ سی گلزار کی طرف
شعور بلگرامی
No comments:
Post a Comment