مسکراتا جنوری، روتا دسمبر لے گیا
اک کباڑی آج ردی میں کیلنڈر لے گیا
موسم گل، سردیوں کی دھوپ، راتیں ہجر کی
چند سکوں کے عوض سب کچھ ستمگر لے گیا
برگِ زردِ و خشک، خار و خس چمن میں رہ گئے
گُل فروشِ وقت سارے پُھول چُن کر لے گیا
مجھ کو پیاسا رکھ کے شاید پیاس اس کی بُجھ گئی
اپنا صحرا دے گیا،۔ میرا سمندر لے گیا
اب کے اس کی مہربانی کے عجب انداز تھے
جُبہ و دستار دے کر شانہ و سر لے گیا
اس نے جب تاریکیوں کی بات کی ناصر بشیر
چاند دکھلانے اسے میں گھر کی چھت پر لے گیا
ناصر بشیر
No comments:
Post a Comment