عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپﷺ کا اسمِ گرامی اِس قدر اچھا لگے
باغ میں سب سے حسیں جیسے شجر اچھا لگے
عرش کی جانب سفر ہو یا مدینے کی طرف
آپﷺ کا عزمِ سفر اور ہمسفر اچھا لگے
احترام اُن کا بجا اپنی جگہ لیکن مجھے
اپنے ماں اور باپ سے اپنا عمر اچھا لگے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپﷺ کا اسمِ گرامی اِس قدر اچھا لگے
باغ میں سب سے حسیں جیسے شجر اچھا لگے
عرش کی جانب سفر ہو یا مدینے کی طرف
آپﷺ کا عزمِ سفر اور ہمسفر اچھا لگے
احترام اُن کا بجا اپنی جگہ لیکن مجھے
اپنے ماں اور باپ سے اپنا عمر اچھا لگے
پتھر کے آدمی ہیں کوئی بولتا نہیں
اس شہر بے صدا میں کہیں بھی صدا نہیں
دلچسپ کس قدر تھی کہانی سکوت کی
شب بھر کسی شجر کا سراپا ہلا نہیں
کیسے کروں تلاش میں اپنے وجود کو
اس شہر میں کسی کو کسی کا پتا نہیں
شکستہ ساز کے کئی سروں میں بانٹ کر مجھے
دئیے گئے قدم قدم نئے نئے سفر مجھے
بکھر گیا میں ہر طرف کرن کرن شفق شفق
کرے کہاں کہاں تلاش اب مِری نظر مجھے
لہو کے بوند بوند میں ہے تیرے جسم کی مٹھاس
پلا دے کاش خوں مِرا کوئی نچوڑ کر مجھے
وہ اجنبی تھا مگر تھا وہ آشنا کی طرح
مِرے وہ دل میں رہے گا مِری دعا کی طرح
وہ نا خدا تو نہیں تھا مگر سفینے کو
بچا بچا کے وہ لایا تھا ناخدا کی طرح
زباں سے اس کی جو نکلا وہ بن گیا مرہم
کلام اس کا حقیقت میں تھا دوا کی طرح
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کاغذ پر وہ نامﷺ لکھوں تو رو پڑتا ہوں
میں رحمت کے پُھول چُنوں تو رو پڑتا ہوں
دل کے بندھن ٹُوٹ گئے ہیں فرطِ غم سے
اب میں انؐ کی نعت کہوں تو رو پڑتا ہوں
جس جس نے بھی ساتھ دیا تھا آنحضرتؐ کا
ان سب کے میں نام گِنوں تو رو پڑتا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فرش سے تا عرش ہیں سارے زمانے آپؐ کے
ساری دنیاؤں کے ہیں مخفی خزانے آپؐ کے
اک طرف صدیق اکبر، اک طرف روح الامیںؑ
ہمسفر کیا کیا بنائے ہیں خدا نے آپؐ کے
ذرہ ذرہ آپؐ کی سچی رسالت کا گواہ
ذرے ذرے کی زباں پر ہیں ترانے آپؐ کے