لذت لمس مر نہ جائے کہیں
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں
تجھ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہا
اب یہ ضدی نظر نہ جائے کہیں
جنگ جاری ہے رشتے ناطوں میں
سب اثاثہ بکھر نہ جائے کہیں
لذت لمس مر نہ جائے کہیں
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں
تجھ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہا
اب یہ ضدی نظر نہ جائے کہیں
جنگ جاری ہے رشتے ناطوں میں
سب اثاثہ بکھر نہ جائے کہیں
جو پہلے ذرا سی نوازش کرے ہے
وہی پھر شب و روز سازش کرے ہے
وہ دھوکے پہ دھوکہ دیے جائے لیکن
یہ دل پھر بھی اس کی سفارش کرے ہے
کسی دن ملے وہ کھلونوں کی صورت
مِرا دل بھی بچوں سی خواہش کرے ہے
دل کے ماروں سے دل لگی چاہے
موت قسطوں میں زندگی چاہے
میں تو چاہوں اسے قیامت تک
وہ ملاقات سرسری چاہے
شہر کا شہر میرے قدموں میں
دل مگر یار کی گلی چاہے
دور تک سونی پڑی ہے رہگزر دیکھے گا کون
اپنی منزل ہی نہیں تو راہبر دیکھے گا کون
چاندنی کی بد دعا اپنا اثر دِکھلا گئی
کس قدر تاریکیاں ہیں چاند پر دیکھے گا کون
جاگتی آنکھوں پہ آخر نیند غالب آ گئی
اب تمہارا راستہ بھی رات بھر دیکھے گا کون
تم سے ملے جو شخص اسے زندگی ملے
جیسے اندھیری شب میں کہیں روشنی ملے
جو پیڑ بانٹتا ہے مسافر کو روز چھاؤں
صحرا میں اس کی شاخ ہمیشہ ہری ملے
رشتوں کے ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا
اپنے مکان میں بھی مجھے اجنبی ملے