Showing posts with label فاروق رحمان. Show all posts
Showing posts with label فاروق رحمان. Show all posts

Sunday, 2 January 2022

لذت لمس مر نہ جائے کہیں

 لذت لمس مر نہ جائے کہیں

پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

تجھ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہا

اب یہ ضدی نظر نہ جائے کہیں

جنگ جاری ہے رشتے ناطوں میں

سب اثاثہ بکھر نہ جائے کہیں

Monday, 29 November 2021

جو پہلے ذرا سی نوازش کرے ہے

 جو پہلے ذرا سی نوازش کرے ہے

وہی پھر شب و روز سازش کرے ہے

وہ دھوکے پہ دھوکہ دیے جائے لیکن

یہ دل پھر بھی اس کی سفارش کرے ہے

کسی دن ملے وہ کھلونوں کی صورت

مِرا دل بھی بچوں سی خواہش کرے ہے

Wednesday, 24 November 2021

دل کے ماروں سے دل لگی چاہے

 دل کے ماروں سے دل لگی چاہے

موت قسطوں میں زندگی چاہے

میں تو چاہوں اسے قیامت تک

وہ ملاقات سرسری چاہے

شہر کا شہر میرے قدموں میں

دل مگر یار کی گلی چاہے

Tuesday, 23 November 2021

دور تک سونی پڑی ہے رہگزر دیکھے گا کون

 دور تک سونی پڑی ہے رہگزر دیکھے گا کون

اپنی منزل ہی نہیں تو راہبر دیکھے گا کون

چاندنی کی بد دعا اپنا اثر دِکھلا گئی

کس قدر تاریکیاں ہیں چاند پر دیکھے گا کون

جاگتی آنکھوں پہ آخر نیند غالب آ گئی

اب تمہارا راستہ بھی رات بھر دیکھے گا کون

Friday, 2 April 2021

تم سے ملے جو شخص اسے زندگی ملے

 تم سے ملے جو شخص اسے زندگی ملے

جیسے اندھیری شب میں کہیں روشنی ملے

جو پیڑ بانٹتا ہے مسافر کو روز چھاؤں

صحرا میں اس کی شاخ ہمیشہ ہری ملے

رشتوں کے ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا

اپنے مکان میں بھی مجھے اجنبی ملے