تم سے ملے جو شخص اسے زندگی ملے
جیسے اندھیری شب میں کہیں روشنی ملے
جو پیڑ بانٹتا ہے مسافر کو روز چھاؤں
صحرا میں اس کی شاخ ہمیشہ ہری ملے
رشتوں کے ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا
اپنے مکان میں بھی مجھے اجنبی ملے
بھایا نہ تیرے بعد کسی اور کا مزاج
ملنے کو زندگی میں کئی آدمی ملے
تھا عشق کا جنون، وفا تھی سرشت میں
جو روگ لا علاج تھے وہ دائمی ملے
فاروق ان سے بچھڑے زمانہ گزر گیا
لازم نہیں کہ آنکھ میں اب تک نمی ملے
فاروق رحمان
No comments:
Post a Comment