Friday, 2 April 2021

تم سے ملے جو شخص اسے زندگی ملے

 تم سے ملے جو شخص اسے زندگی ملے

جیسے اندھیری شب میں کہیں روشنی ملے

جو پیڑ بانٹتا ہے مسافر کو روز چھاؤں

صحرا میں اس کی شاخ ہمیشہ ہری ملے

رشتوں کے ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا

اپنے مکان میں بھی مجھے اجنبی ملے

بھایا نہ تیرے بعد کسی اور کا مزاج

ملنے کو زندگی میں کئی آدمی ملے

تھا عشق کا جنون، وفا تھی سرشت میں

جو روگ لا علاج تھے وہ دائمی ملے

فاروق ان سے بچھڑے زمانہ گزر گیا

لازم نہیں کہ آنکھ میں اب تک نمی ملے


فاروق رحمان

No comments:

Post a Comment