صعوبتوں کے سفر کا شعور ہے مجھ میں
یہ سچ ہے اپنے دکھوں کا غرور ہے مجھ میں
تجلیوں کا سراپا چھپائے باہوں میں
نئی دشاؤں کا انمِٹ سرور ہے مجھ میں
نصیب آفریں اجلے لباس سے محروم
سیاہ فام، دل ناصبور ہے مجھ میں
صبا نویدی اسی نور سے نکل آئے
نیا نیا سا جو عالم کو نور ہے مجھ میں
علیم صبا نویدی
No comments:
Post a Comment