Friday, 2 April 2021

صعوبتوں کے سفر کا شعور ہے مجھ میں

 صعوبتوں کے سفر کا شعور ہے مجھ میں

یہ سچ ہے اپنے دکھوں کا غرور ہے مجھ میں

تجلیوں کا سراپا چھپائے باہوں میں

نئی دشاؤں کا انمِٹ سرور ہے مجھ میں

نصیب آفریں اجلے لباس سے محروم

سیاہ فام، دل ناصبور ہے مجھ میں

صبا نویدی اسی نور سے نکل آئے

نیا نیا سا جو عالم کو نور ہے مجھ میں


علیم صبا نویدی

No comments:

Post a Comment