اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں
راستہ مجھ میں سمایا ہی نہیں
وہ مجھے آواز دے گا کس طرح
نام تو میں نے بتایا ہی نہیں
میں خُوشی بن کر اسے مِلتا رہا
وہ مجھے سنبھال پایا ہی نہیں
اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں
راستہ مجھ میں سمایا ہی نہیں
وہ مجھے آواز دے گا کس طرح
نام تو میں نے بتایا ہی نہیں
میں خُوشی بن کر اسے مِلتا رہا
وہ مجھے سنبھال پایا ہی نہیں
دِیے کی لو مِری اندر سے نِسبت ہے
کہ ہر منظر کی پس منظر سے نسبت ہے
سہولت سے پڑا ہوں چاک پر اپنے
مِری مٹی کی کوزہ گر سے نسبت ہے
مِرے بٹوے میں کچھ سانسیں بقایا ہیں
بس اتنی سی ہی مجھ کو زر سے نسبت ہے
فقط اشیاء کی قیمت دیکھتا ہوں
میں سب حسبِ ضرورت دیکھتا ہوں
مِرا انکار بھی میرا نہیں ہے
میں بس تیری سہولت دیکھتا ہوں
وہ رستہ بھول جاتا ہوں سفر میں
جسے میں وقتِ رُخصت دیکھتا ہوں
اپنے گھر کو تباہ کر کے میں
سرخرو ہوں نباہ کر کے میں
جھوٹ بولا ہے، دل نہیں توڑا
مطمئن ہوں گناہ کر کے میں
آسمانوں سے لوٹ آیا ہوں
بال و پر میں پناہ کر کے میں