Showing posts with label زاہد نبی. Show all posts
Showing posts with label زاہد نبی. Show all posts

Saturday, 23 May 2026

اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں

 اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں

راستہ مجھ میں سمایا ہی نہیں

وہ مجھے آواز دے گا کس طرح

نام تو میں نے بتایا ہی نہیں

میں خُوشی بن کر اسے مِلتا رہا

وہ مجھے سنبھال پایا ہی نہیں

Tuesday, 14 October 2025

دیے کی لو مری اندر سے نسبت ہے

دِیے کی لو مِری اندر سے نِسبت ہے

کہ ہر منظر کی پس منظر سے نسبت ہے

سہولت سے پڑا ہوں چاک پر اپنے

مِری مٹی کی کوزہ گر سے نسبت ہے

مِرے بٹوے میں کچھ سانسیں بقایا ہیں

بس اتنی سی ہی مجھ کو زر سے نسبت ہے

Tuesday, 19 November 2024

فقط اشیاء کی قیمت دیکھتا ہوں

 فقط اشیاء کی قیمت دیکھتا ہوں

میں سب حسبِ ضرورت دیکھتا ہوں

مِرا انکار بھی میرا نہیں ہے

میں بس تیری سہولت دیکھتا ہوں

وہ رستہ بھول جاتا ہوں سفر میں

جسے میں وقتِ رُخصت دیکھتا ہوں

Monday, 18 November 2024

اپنے گھر کو تباہ کر کے میں

 اپنے گھر کو تباہ کر کے میں

سرخرو ہوں نباہ کر کے میں

جھوٹ بولا ہے، دل نہیں توڑا

مطمئن ہوں گناہ کر کے میں

آسمانوں سے لوٹ آیا ہوں

بال و پر میں پناہ کر کے میں