Showing posts with label احمد رضا بریلوی. Show all posts
Showing posts with label احمد رضا بریلوی. Show all posts

Friday, 19 July 2024

مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے

مرحبا آتشِ دوزخ سے بچانے والے

جتنے اللہ نے بھیجے ہیں نبیؑ دنیا میں 

تیریؐ آمد کی خبر سب ہیں سنانے والے

مجھ سے ناشاد کو پہنچا دے دَرِ احمدؐ تک

میرے خالق میرے بچھڑوں کے ملانے والے

Tuesday, 16 July 2024

باغ جنت کے ہیں بہر مدح خوان اہل بیت

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


باغ جنت کے ہیں بہر مدح خوان اہل بیت 

تم کو مُژدہ نار کا اے دشمنان اہل بیت 

کس زباں سے ہو بیاں عز و شان اہل بیت 

مدح گوئے مصطفیٰؐ ہے مدح خوان اہل بیت 

ان کی پاکی کا خدائے پاک کرتا ہے بیاں 

آیۂ تطہیر سے ظاہر ہے شان اہل بیت 

Friday, 5 July 2024

حرز جاں ذکر شفاعت کیجیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے

نار سے بچنے کی صورت کیجیے

اُن کے نقشِ پا پہ غیرت کیجیے

آنکھ سے چُھپ کر زیارت کیجیے

اُن کے حُسنِ با ملاحت پر نثار

شیرۂ جاں کی حلاوت کیجیے

Friday, 14 July 2023

پیش حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے

آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے

دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ

ہم سے پیاسوں کے لیے دریا بہاتے جائیں گے

کُشتگانِ گرمئ محشر کو وہ جانِ مسیح

آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے

Wednesday, 12 July 2023

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں

دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں

رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں

سوتے ہیں ان کے سائے میں کوئی ہمیں جگائے کیوں

یادِ حضورﷺ کی قسم غفلتِ عیش ہے ستم

خوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں

Thursday, 15 September 2022

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیراﷺ

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیراﷺ

دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا

تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا

فیض ہے یا شہﷺ تسنیم نرالا تیراﷺ

آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا

Sunday, 4 September 2022

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت معراج النبیﷺ پر مبنی کلام


اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے

زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے

انہیں وہ میٹھی نگاہ والا، خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما

غضب سے اُن کے خدا بچائے، جلال باری عتاب میں ہے

جلی جلی بو سے اُس کی پیدا، سوزشِ عشقِ چشم والا

کباب آہو میں بھی نہ پایا، مزہ جو دل کے کباب میں ہے

Sunday, 21 August 2022

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے

کلیاں کِھلیں دلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے

کھبتی ہوئی نظر میں ادا کِس سحر کی ہے

چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے

ڈالیں ہَری ہَری ہیں تو بالیں بھری بھری

کشتِ امل پَری ہے یہ بارش کدھر کی ہے

Monday, 20 December 2021

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

 وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہیں

تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

جو تِرے در سے یار پھرتے ہیں

در بدر یونہی خوار پھرتے ہیں

آہ، کل عیش تو کیۓ ہم نے

آج وہ بے قرار پھرتے ہیں

Sunday, 19 December 2021

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

ساتھ ہی منشئ رحمت کا قلمدان گیا

لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا

میرے مولیٰ مِرے آقاﷺ تِرے قربان گیا

آہ، وہ آنکھ کہ ناکام تمنا ہی رہی

ہائے وہ دل جو تِرے در سے پُر ارمان گیا

Saturday, 18 December 2021

مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مصطفٰیؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایتﷺ پہ لاکھوں سلام

مِہرِ چرخِ نبوت پہ روشن درود

گلِ باغِ رسالتؐ پہ لاکھوں سلام

شہرِیارِ ارم تاجدارِ حرمﷺ

نوبہارِ شفاعتؐ پہ لاکھوں سلام

Friday, 17 December 2021

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 سونا جنگل، رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے

سونے والو جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے

آنکھ سے کاجل صاف چُرا لیں، یاں وہ چور بلا کے ہیں

تیری گٹھری تاکی ہے،۔ اور تُو نے نیند نکالی ہے

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا

ہائے مسافر، دم میں نہ آنا مَت کیسی متوالی ہے

Thursday, 11 March 2021

یاد وطن ستم کیا دشت حرم سے لائی کیوں

عارفانہ کلام حمد نعت رسول مقبولﷺ


یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

بیٹھے بٹھائے بد نصیب سر پہ بلا اٹھائی کیوں

دل میں تو چوٹ تھی دبی ہائے غضب ابھر گئی

پوچھو تو آہِ سرد سے ٹھنڈی ہوا چلائی کیوں

چھوڑ کے اس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں کے آ بسو

پھر کہو سر پہ دھر کے ہاتھ لٹ گئی سب کمائی کیوں