عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے
مرحبا آتشِ دوزخ سے بچانے والے
جتنے اللہ نے بھیجے ہیں نبیؑ دنیا میں
تیریؐ آمد کی خبر سب ہیں سنانے والے
مجھ سے ناشاد کو پہنچا دے دَرِ احمدؐ تک
میرے خالق میرے بچھڑوں کے ملانے والے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے
مرحبا آتشِ دوزخ سے بچانے والے
جتنے اللہ نے بھیجے ہیں نبیؑ دنیا میں
تیریؐ آمد کی خبر سب ہیں سنانے والے
مجھ سے ناشاد کو پہنچا دے دَرِ احمدؐ تک
میرے خالق میرے بچھڑوں کے ملانے والے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باغ جنت کے ہیں بہر مدح خوان اہل بیت
تم کو مُژدہ نار کا اے دشمنان اہل بیت
کس زباں سے ہو بیاں عز و شان اہل بیت
مدح گوئے مصطفیٰؐ ہے مدح خوان اہل بیت
ان کی پاکی کا خدائے پاک کرتا ہے بیاں
آیۂ تطہیر سے ظاہر ہے شان اہل بیت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے
اُن کے نقشِ پا پہ غیرت کیجیے
آنکھ سے چُھپ کر زیارت کیجیے
اُن کے حُسنِ با ملاحت پر نثار
شیرۂ جاں کی حلاوت کیجیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ
ہم سے پیاسوں کے لیے دریا بہاتے جائیں گے
کُشتگانِ گرمئ محشر کو وہ جانِ مسیح
آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں
سوتے ہیں ان کے سائے میں کوئی ہمیں جگائے کیوں
یادِ حضورﷺ کی قسم غفلتِ عیش ہے ستم
خوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیراﷺ
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیراﷺ
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
فیض ہے یا شہﷺ تسنیم نرالا تیراﷺ
آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت معراج النبیﷺ پر مبنی کلام
اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
انہیں وہ میٹھی نگاہ والا، خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما
غضب سے اُن کے خدا بچائے، جلال باری عتاب میں ہے
جلی جلی بو سے اُس کی پیدا، سوزشِ عشقِ چشم والا
کباب آہو میں بھی نہ پایا، مزہ جو دل کے کباب میں ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے
کلیاں کِھلیں دلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے
کھبتی ہوئی نظر میں ادا کِس سحر کی ہے
چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے
ڈالیں ہَری ہَری ہیں تو بالیں بھری بھری
کشتِ امل پَری ہے یہ بارش کدھر کی ہے
وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
جو تِرے در سے یار پھرتے ہیں
در بدر یونہی خوار پھرتے ہیں
آہ، کل عیش تو کیۓ ہم نے
آج وہ بے قرار پھرتے ہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
ساتھ ہی منشئ رحمت کا قلمدان گیا
لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا
میرے مولیٰ مِرے آقاﷺ تِرے قربان گیا
آہ، وہ آنکھ کہ ناکام تمنا ہی رہی
ہائے وہ دل جو تِرے در سے پُر ارمان گیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مصطفٰیؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایتﷺ پہ لاکھوں سلام
مِہرِ چرخِ نبوت پہ روشن درود
گلِ باغِ رسالتؐ پہ لاکھوں سلام
شہرِیارِ ارم تاجدارِ حرمﷺ
نوبہارِ شفاعتؐ پہ لاکھوں سلام
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سونا جنگل، رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چُرا لیں، یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے،۔ اور تُو نے نیند نکالی ہے
یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر، دم میں نہ آنا مَت کیسی متوالی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت رسول مقبولﷺ
یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
بیٹھے بٹھائے بد نصیب سر پہ بلا اٹھائی کیوں
دل میں تو چوٹ تھی دبی ہائے غضب ابھر گئی
پوچھو تو آہِ سرد سے ٹھنڈی ہوا چلائی کیوں
چھوڑ کے اس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں کے آ بسو
پھر کہو سر پہ دھر کے ہاتھ لٹ گئی سب کمائی کیوں