Wednesday, 12 July 2023

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں

دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں

رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں

سوتے ہیں ان کے سائے میں کوئی ہمیں جگائے کیوں

یادِ حضورﷺ کی قسم غفلتِ عیش ہے ستم

خوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں

دیکھ کے حضرتِ غنی پھیل پڑے فقیر بھی

چھائی ہے اب تو چھاؤنی حشر ہی آ نہ جائے کیوں

جان ہے عشقِ مصطفیٰؐ روز فزوں کرے خدا

جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اُٹھائے کیوں

ہم تو ہیں آپ دل فگار غم میں ہنسی ہے نا گوار

چھیڑ کے گل کو نو بہار خون ہمیں رُلائے کیوں

یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں

منتِ غیر کیوں اٹھائیں کوئی ترس جتائے کیوں

اُن کے جلال کا اثر دل سے لگائے ہے قمر

جو کہ ہو لوٹ زخم پر داغِ جگر مٹائے کیوں

خوش رہے گل سے عندلیب خارِ حرم مجھے نصیب

میری بلا بھی ذِکر پر پھول کے خار کھائے کیوں

گردِ ملال اگر دُھلے دل کی کلی اگر کُھلے

برق سے آنکھ کیوں جلے رونے پہ مسکرائے کیوں

جانِ سفر نصیب کو کس نے کہا مزے سے سو

کھٹکا اگر سحر کا ہو شام سے موت آئے کیوں

اب تو نہ روک اے غنی عادتِ سگ بگڑ گئی

میرے کریم پہلے ہی لقمۂ تر کھلائے کیوں

راہِ نبیؐ میں کیا کمی فرشِ بیاض دیدہ کی

چادرِ ظل ہے ملگجی زیرِ قدم بچھائے کیوں

سنگِ درِ حضورؐ سے ہم کو خدا نہ صبر دے

جانا ہے سر کو جا چکے دل کو قرار آئے کیوں

ہے تو رضا نِرا ستم جرم پہ گر لجائیں ہم

کوئی بجائے سوزِ غم سازِ طرب بجائے کیوں


احمد رضا خان فاضل بریلوی

No comments:

Post a Comment