عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اس طرف آپﷺ کی بس ایک نظر ہو جائے
دل مِرا، میرے شہاﷺ طیبہ نگر ہو جائے
میں محمدﷺ کی غلامی میں رہوں مدحِ کناں
آرزو ہے کہ یونہی عمر بسر ہو جائے
سبز گُنبد کا کروں میں بھی کبھی نظارا
اے خدا میری دعا میں بھی اثر ہو جائے
میرا ایماں ہے میرے حال سے واقف ہیں حضورؐ
میں اِدھر تڑپوں، اُدھر اُنؐ کو خبر ہو جائے
یا نبیﷺ کر دیں عطا شہرِ مدینہ کی شبیں
یا نبیﷺ اب شبِ ہستی کی سحر ہو جائے
بلقیس خان
No comments:
Post a Comment