کرتے ہیں اعتراض کہ ہم بولتے نہیں
ہم بولنے لگیں تو صنم بولتے نہیں
خاموش رہنا چاہیں تو رہتے ہیں دیر تک
جب بولنے پہ آئیں تو کم بولتے نہیں
بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے احتیاط
چوروں کے چلتے وقت قدم بولتے نہیں
کرتے ہیں اعتراض کہ ہم بولتے نہیں
ہم بولنے لگیں تو صنم بولتے نہیں
خاموش رہنا چاہیں تو رہتے ہیں دیر تک
جب بولنے پہ آئیں تو کم بولتے نہیں
بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے احتیاط
چوروں کے چلتے وقت قدم بولتے نہیں
کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے
یہ نہ سوچو کہ رات باقی ہے
عشق کی بات ہے ابھی کر لو
بھول جاؤ حیات باقی ہے
ساری دنیا ہے پھر بھی تنہا ہوں
اک تمہارا ہی ساتھ باقی ہے
کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں
میرے دل میں تو سبھی کے غم ہیں
پیار کی ایک ہی رُت ہوتی ہے
نفرتوں کے تو کئی موسم ہیں
ہم انہیں جھَیل رہے ہیں، لیکن
وہ سمجھتے ہیں کہ بُزدل ہم ہیں
جب تلک آب و دانہ لگتا ہے
یہ جہاں آشیانہ لگتا ہے
غنچہ غنچہ کھلا ہے پھولوں سا
آپ کا مسکرانا لگتا ہے
میری ماں کا دیا ہوا رومال
دھوپ میں شامیانہ لگتا ہے