Showing posts with label الفت بٹالوی. Show all posts
Showing posts with label الفت بٹالوی. Show all posts

Monday, 5 January 2026

ہم بولنے لگیں تو صنم بولتے نہیں

کرتے ہیں اعتراض کہ ہم بولتے نہیں

ہم بولنے لگیں تو صنم بولتے نہیں

خاموش رہنا چاہیں تو رہتے ہیں دیر تک

جب بولنے پہ آئیں تو کم بولتے نہیں

بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے احتیاط

چوروں کے چلتے وقت قدم بولتے نہیں

Tuesday, 25 November 2025

کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے

 کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے

یہ نہ سوچو کہ رات باقی ہے

عشق کی بات ہے ابھی کر لو

بھول جاؤ حیات باقی ہے

ساری دنیا ہے پھر بھی تنہا ہوں

اک تمہارا ہی ساتھ باقی ہے

Thursday, 24 October 2024

کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں

 کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں

میرے دل میں تو سبھی کے غم ہیں

پیار کی ایک ہی رُت ہوتی ہے

نفرتوں کے تو کئی موسم ہیں

ہم انہیں جھَیل رہے ہیں، لیکن

وہ سمجھتے ہیں کہ بُزدل ہم ہیں

Sunday, 9 May 2021

جب تلک آب و دانہ لگتا ہے

جب تلک آب و دانہ لگتا ہے

یہ جہاں آشیانہ لگتا ہے

غنچہ غنچہ کھلا ہے پھولوں سا

آپ کا مسکرانا لگتا ہے

میری ماں کا دیا ہوا رومال

دھوپ میں شامیانہ لگتا ہے