Monday, 5 January 2026

ہم بولنے لگیں تو صنم بولتے نہیں

کرتے ہیں اعتراض کہ ہم بولتے نہیں

ہم بولنے لگیں تو صنم بولتے نہیں

خاموش رہنا چاہیں تو رہتے ہیں دیر تک

جب بولنے پہ آئیں تو کم بولتے نہیں

بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے احتیاط

چوروں کے چلتے وقت قدم بولتے نہیں

دل پر کسی کے اپنی سماعت کو رکھ کے سن

کس نے کہا ہے یہ کہ ستم بولتے نہیں

اشکوں کا روپ لے کے بتاتے ہیں دل کی بات

الفت ہمارے منہ سے تو غم بولتے نہیں


راکیش الفت بٹالوی 

No comments:

Post a Comment