کرتے ہیں اعتراض کہ ہم بولتے نہیں
ہم بولنے لگیں تو صنم بولتے نہیں
خاموش رہنا چاہیں تو رہتے ہیں دیر تک
جب بولنے پہ آئیں تو کم بولتے نہیں
بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے احتیاط
چوروں کے چلتے وقت قدم بولتے نہیں
دل پر کسی کے اپنی سماعت کو رکھ کے سن
کس نے کہا ہے یہ کہ ستم بولتے نہیں
اشکوں کا روپ لے کے بتاتے ہیں دل کی بات
الفت ہمارے منہ سے تو غم بولتے نہیں
راکیش الفت بٹالوی
No comments:
Post a Comment