عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حرفوں نے مِرے بھیک جو پائی تِرے در کی
کرتے ہیں سدا مدح سرائی ترے در کی
یہ مدح و ثنا صوت و صدا شعر و ادب سب
یہ اذن و عطا خاص کمائی ترے در کی
جچتے ہی نہیں قصرِ شہی اس کی نظر میں
قدرت نے جسے راہ دکھائی ترے در کی
چمکے گی مری خاکِ لحد اس کے اثر سے
ہے خاک جو ماتھے پہ لگائی ترے در کی
لاتا نہیں خاطر میں وہ شاہانِ زمن کو
تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
اترے کبھی آنکھوں میں تِرا نور سراپا
تصویر ہے سینے میں سجائی ترے در کی
یوں ہی تو فروزاں نہیں مہر و مہ و اختر
خیرات اجالوں نے ہے پائی ترے در کی
جبریل بھی آتے تھے جو سدرہ سے اتر کر
کیا ذوق تھا کیا دُھن تھی سمائی ترے در کی
کیوں پھول یہ کلیاں ہیں بہاروں میں معطر
خوشبو ہے صبا خیر سے لائی ترے در کی
یہ طلعتِ کونین تِرے رُخ کا تصدق
یہحسنِ جہاں جلوہ نمائی ترے در کی
سیرت سے ہوا کلبۂ جاں اپنا منوّر
جب یاد مہکتی ہوئی آئی ترے در کی
امّت پہ تِری آج ہے آلام کی یورش
فریاد ہے آقا ہے دہائی ترے در کی
بو صیری و جامی کے وسیلے سے ظفر بھی
رکھتا ہے تمنّائے گدائی ترے در کی
ظفر اقبال نوری
No comments:
Post a Comment