تو گفتگو کے شوق میں مجھ کو نڈھال کر
میں کچھ نہ کہہ سکوں مجھے اتنے سوال کر
دریا سموئے بیٹھا تھا آنکھوں کے دشت میں
جب جب کہا گیا مجھے کوئی کمال کر
ہارے ہوئے ہے شخص کو ہیڈ اور ٹیل کیا
کس کو دکھا رہا ہے تُو سکہ اچھال کر
جوڑا کھلا ہے اس کا قیامت ہے اس پہ یہ
انگڑائی لے رہی ہے وہ بانہیں نکال کر
وافر جو مل گیا تھا سو تُو نے کیا ہے خرچ
رکھا نہیں گیا کہیں مجھ کو سنبھال کر
مجھ کومقیم رہنے دو پیچھے ہی اب مِرے
چلتا نہیں ہوں آگے میں کچھ دیکھ بھال کر
رضوان مقیم
No comments:
Post a Comment