Tuesday, 27 January 2026

ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے

 ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے

ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے

غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے

نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے

جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی

مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے

پرندے پیاس میں پانی تلاش کرتے ہیں

نہیں نہیں نہ کر ان کا شکار رہنے دے

ہے کتنا دل میں ترے جذبۂ وفاداری

مجھے خبر ہے تغافل شعار رہنے دے

کچھ اس کے رحم و کرم کی بھی بات کر زاہد

یہ ذکر قہر خدا بار بار رہنے دے

یہ آسماں کے ستاروں سے کم نہیں شہزر

نہ ہوں گے زخم جگر کے شمار رہنے دے


مجیب الرحمٰن شہزر

No comments:

Post a Comment