ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے
ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے
غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے
نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے
جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی
مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے
پرندے پیاس میں پانی تلاش کرتے ہیں
نہیں نہیں نہ کر ان کا شکار رہنے دے
ہے کتنا دل میں ترے جذبۂ وفاداری
مجھے خبر ہے تغافل شعار رہنے دے
کچھ اس کے رحم و کرم کی بھی بات کر زاہد
یہ ذکر قہر خدا بار بار رہنے دے
یہ آسماں کے ستاروں سے کم نہیں شہزر
نہ ہوں گے زخم جگر کے شمار رہنے دے
مجیب الرحمٰن شہزر
No comments:
Post a Comment