Showing posts with label مصروفہ قادر. Show all posts
Showing posts with label مصروفہ قادر. Show all posts

Friday, 15 September 2023

دل میرا مدتوں سے تھا پیاسا

 خلاصہ


دل میرا مدتوں سے تھا پیاسا

اک صحرا کے جیسی حالت تھی

تیری ماں بِن تیرے بھی زندہ تھی

ہاں، مگر زندگی دُھواں سی تھی

میرے اپنے تھے میرے پاس، مگر

ذات میں اک عجب خلش سی تھی

Monday, 7 August 2023

زمانے سے بغاوت ہے نہیں تو

زمانے سے بغاوت ہے، نہیں تو

مجھے تم سے محبت ہے، نہیں تو

یہ سانسیں اب بھی دیکھو چل رہی ہیں

مجھے تیری ضرورت ہے، نہیں تو

میرا دل ہے کہ بس اب بُجھ چکا ہے

ذرا سی بھی کدُورت ہے، نہیں تو

Monday, 17 July 2023

ڈرو ان سے یہ بھولے سے بیچارے لوٹ لیتے ہیں

 ڈرو ان سے، یہ بھولے سے بیچارے لُوٹ لیتے ہیں

گُلوں سے بُو، فلک سے یہ ستارے لوٹ لیتے ہیں

عجب قزاق آئے ہیں، غضب دستور ہے ان کا

یہ بیڑے چھوڑ دیتے ہیں کنارے لوٹ لیتے ہیں

بُرا مت ماننا اب کے یہ تہیہ کر کے آئے ہیں

کہ جتنے بھی ہیں درد و غم تمہارے لوٹ لیتے ہیں

Monday, 10 July 2023

میں کیوں ارزاں کروں خود کو

 کیوں


وہ جب بھی مجھ سے ملتے ہیں

مُکرر پوچھتے ہیں یہ

بتاؤ کیا کیا تم نے

سُناؤ کیا لکھا تم نے

نئی کوئی غزل ہو گی

ہوئی کوئی نظم ہو گی

Sunday, 9 July 2023

یہ کہنا کتنا آساں ہے

 یہ کہنا کتنا آساں ہے

میرا جو کچھ ہے تیرا ہے

میرا ہر پل تمہارا ہے

سبھی قصے تمہارے ہیں

میرا دل، جسم و جاں ہمدم

میرے سپنے تمہارے ہیں

Saturday, 8 July 2023

تیری بے رخی اب پرانی ہوئی

 تیری بے رُخی اب پرانی ہوئی

کہ بس ختم اب یہ کہانی ہوئی

یہ بالوں میں چاندی جو اُتری میاں

تو کافور سمجھو جوانی ہوئی

تمہاری جفاؤں کا انداز دیکھ

وفا شرم سے پانی پانی ہوئی