خلاصہ
دل میرا مدتوں سے تھا پیاسا
اک صحرا کے جیسی حالت تھی
تیری ماں بِن تیرے بھی زندہ تھی
ہاں، مگر زندگی دُھواں سی تھی
میرے اپنے تھے میرے پاس، مگر
ذات میں اک عجب خلش سی تھی
خلاصہ
دل میرا مدتوں سے تھا پیاسا
اک صحرا کے جیسی حالت تھی
تیری ماں بِن تیرے بھی زندہ تھی
ہاں، مگر زندگی دُھواں سی تھی
میرے اپنے تھے میرے پاس، مگر
ذات میں اک عجب خلش سی تھی
زمانے سے بغاوت ہے، نہیں تو
مجھے تم سے محبت ہے، نہیں تو
یہ سانسیں اب بھی دیکھو چل رہی ہیں
مجھے تیری ضرورت ہے، نہیں تو
میرا دل ہے کہ بس اب بُجھ چکا ہے
ذرا سی بھی کدُورت ہے، نہیں تو
ڈرو ان سے، یہ بھولے سے بیچارے لُوٹ لیتے ہیں
گُلوں سے بُو، فلک سے یہ ستارے لوٹ لیتے ہیں
عجب قزاق آئے ہیں، غضب دستور ہے ان کا
یہ بیڑے چھوڑ دیتے ہیں کنارے لوٹ لیتے ہیں
بُرا مت ماننا اب کے یہ تہیہ کر کے آئے ہیں
کہ جتنے بھی ہیں درد و غم تمہارے لوٹ لیتے ہیں
کیوں
وہ جب بھی مجھ سے ملتے ہیں
مُکرر پوچھتے ہیں یہ
بتاؤ کیا کیا تم نے
سُناؤ کیا لکھا تم نے
نئی کوئی غزل ہو گی
ہوئی کوئی نظم ہو گی
یہ کہنا کتنا آساں ہے
میرا جو کچھ ہے تیرا ہے
میرا ہر پل تمہارا ہے
سبھی قصے تمہارے ہیں
میرا دل، جسم و جاں ہمدم
میرے سپنے تمہارے ہیں
تیری بے رُخی اب پرانی ہوئی
کہ بس ختم اب یہ کہانی ہوئی
یہ بالوں میں چاندی جو اُتری میاں
تو کافور سمجھو جوانی ہوئی
تمہاری جفاؤں کا انداز دیکھ
وفا شرم سے پانی پانی ہوئی