کیوں
وہ جب بھی مجھ سے ملتے ہیں
مُکرر پوچھتے ہیں یہ
بتاؤ کیا کیا تم نے
سُناؤ کیا لکھا تم نے
نئی کوئی غزل ہو گی
ہوئی کوئی نظم ہو گی
نئی نظموں کا کیا رنگ ہے
غزل کا کیسا آہنگ ہے
وہ جو دو شعر سُنائے تھے
وہی جو گُنگنائے تھے
مکمل اب غزل ہو گئی
تو میں بھی مُسکراتی ہو
نفی میں سر ہلاتی ہوں
نہیں کچھ بھی لکھا میں نے
میں کیوں پھر اپنے غم گا کر
سُناؤں ایرے غیروں کو
بھلا کیوں چاندنی لفظوں کی
سونپوں پھر اندھیروں کو
میں کیوں ارزاں کروں خود کو
مصروفہ قادر
No comments:
Post a Comment