Monday, 10 July 2023

ایسے ہی چپ رہنا ہے

 ایسے ہی چپ رہنا ہے

کہہ لو جو بھی کہنا ہے

رُکتا کب ہے روکے سے

دریا نے تو بہنا ہے

پہلے ہی من موہنے ہو

زیور کیونکر پہنا ہے

تیرا جانا ہے صدمہ

صدمہ دائم سہنا ہے

ہر دم چُومے کان تِرے

مجھ سے بہتر گہنا ہے


خبیب کنجاہی

No comments:

Post a Comment