اسے پانے کی کرتے ہو دُعا تو
مگر اس سے بھی کل جی بھر گیا تو
یقیناً آج ہم اک ساتھ ہوتے
اگر کرتے ذرا سا حوصلہ تو
چلے ہو رہنما کر عِلم کو تم
تمہیں اس عِلم نے بھٹکا دیا تو
اسے پانے کی کرتے ہو دُعا تو
مگر اس سے بھی کل جی بھر گیا تو
یقیناً آج ہم اک ساتھ ہوتے
اگر کرتے ذرا سا حوصلہ تو
چلے ہو رہنما کر عِلم کو تم
تمہیں اس عِلم نے بھٹکا دیا تو
تعلق توڑ کر اُس کی گلی سے
کبھی میں جُڑ نہ پایا زندگی سے
خدا کا آدمی کو ڈر کہاں اب
وہ گھبراتا ہے کیول آدمی سے
مِری یہ تشنگی شاید بُجھے گی
کسی میری ہی جیسی تشنگی سے
جنون سر سے اُتر گیا ہے
وجود لیکن بکھر گیا ہے
بہت خسارہ ہے عاشقی میں
تمام علم و ہُنر گیا ہے
میں اور ہی شخص ہوں کوئی اب
جو شخص پہلے تھا مر گیا ہے
پرفیوم
تِرے پرفیوم کی خوشبو
میری جاناں
ہمارے وصل پر پہلے
گلے لگنے سے
میرے فیوریٹ