Showing posts with label سراج فیصل. Show all posts
Showing posts with label سراج فیصل. Show all posts

Friday, 22 May 2026

اسے پانے کی کرتے ہو دعا تو

 اسے پانے کی کرتے ہو دُعا تو

مگر اس سے بھی کل جی بھر گیا تو

یقیناً آج ہم اک ساتھ ہوتے

اگر کرتے ذرا سا حوصلہ تو

چلے ہو رہنما کر عِلم کو تم

تمہیں اس عِلم نے بھٹکا دیا تو

Tuesday, 18 March 2025

تعلق توڑ کر اس کی گلی سے

 تعلق توڑ کر اُس کی گلی سے

کبھی میں جُڑ نہ پایا زندگی سے

خدا کا آدمی کو ڈر کہاں اب

وہ گھبراتا ہے کیول آدمی سے

مِری یہ تشنگی شاید بُجھے گی

کسی میری ہی جیسی تشنگی سے

Monday, 18 November 2024

جنون سر سے اتر گیا ہے

 جنون سر سے اُتر گیا ہے

وجود لیکن بکھر گیا ہے

بہت خسارہ ہے عاشقی میں

تمام علم و ہُنر گیا ہے

میں اور ہی شخص ہوں کوئی اب

جو شخص پہلے تھا مر گیا ہے

Wednesday, 24 March 2021

ترے پرفیوم کی خوشبو

 پرفیوم


تِرے پرفیوم کی خوشبو

میری جاناں

ہمارے وصل پر پہلے

گلے لگنے سے

میرے فیوریٹ