اسے پانے کی کرتے ہو دُعا تو
مگر اس سے بھی کل جی بھر گیا تو
یقیناً آج ہم اک ساتھ ہوتے
اگر کرتے ذرا سا حوصلہ تو
چلے ہو رہنما کر عِلم کو تم
تمہیں اس عِلم نے بھٹکا دیا تو
سمجھ سکتے ہو کیا انجام ہو گا
تمہارے وار سے وہ بچ گیا تو
بہت مصروف تھا محفل میں مانا
نہیں کچھ بولتا پر دیکھتا تو
میں اچھا ہوں تبھی اپنا رہی ہو
کوئی مجھ سے بھی اچھا مل گیا تو
بہت نزدیک مت آیا کرو تم
کہیں کچھ ہو گئی ہم سے خطا تو
غلامی میں جکڑ لے گا کوئی پھر
وطن ایسے ہی گر لُٹتا رہا تو
اسے پھر کون مارے گا بتاؤ؟
غمِ ہجراں نے بھی ٹھُکرا دیا تو
سراج فیصل
No comments:
Post a Comment