دلوں پر بار ہوتی جا رہی ہے
زباں تلوار ہوتی جا رہی ہے
ٹھہر جائے نہ نبضِ دل مِری اب
وفا لاچار ہوتی جا رہی ہے
زمیں کے مسئلوں کا حل تلاشو
زمیں آزار ہوتی جا رہی ہے
جسے دیکھو فریبِ آرزو ہے
ادا مکار ہوتی جا رہی ہے
ہوئی بدنام کتنی ہے فقیری
یہ کاروبار ہوتی جا رہی ہے
فصاحت نہ بلاغت ہے غزل میں
غزل بیمار ہوتی جا رہی ہے
درِ مقصود تک جائیں گے کیسے
مسلسل ہار ہوتی جا رہی ہے
ادب ملحوظ رکھنا ہے شبھم جی
قلم میں دھار ہوتی جا رہی ہے
شبھم کشیپ
No comments:
Post a Comment