Sunday, 10 May 2026

ہے عبث حسن کا غرور گھمنڈ

 ہے عبث حُسن کا غرُور گُھمنڈ

کس کا قائم رہا غرور گھمنڈ

خاک و خُوں میں مِلا دیا اس کو

جس کے سر پر چڑھا غرور گھمنڈ

خاکساری ہے شیوۂ انساں

نہیں ہرگز روا غرور گھمنڈ

دیکھتے دیکھتے ہزاروں کا

خاک میں مِل گیا غرور گھمنڈ

پادشاہوں کا ایک ساعت میں

توڑتی ہے قضا غرور گھمنڈ


سردار گنڈا سنگھ مشرقی

No comments:

Post a Comment