Tuesday, 5 May 2026

مجھ کو کمزور نہ سمجھا جائے

نہیں پروا کوئی زمانے کی

کون کیا سوچتا ہے کس کے لیے

مقصد زیست کامیابی ہے

وقت کیا چاہتا ہے کس کے لیے

صنف نازک ہوں یوں تو کہنے کو

حوصلے ہیں چٹان کے مانند

ہے گھنا میری سوچ کا سایہ

نیلگوں آسمان کے مانند

اپنے ہونے پہ فخر ہے مجھ کو

یہ تو ہر دور کی کہانی ہے

کبھی نفرت، کبھی پذیرائی

ہم کو ہر عہد میں ہوئی حاصل

کبھی راحت، کبھی یہ رسوائی

اس کا ہرگز نہیں ہے یہ مطلب

حوصلے اپنے چھوڑ بیٹھوں میں

جس سے رشتوں کا مان ہو قائم

اس سے رشتہ ہی توڑ بیٹھوں میں

وقت کی تیز آندھیوں میں یہاں

چاہتوں کے دیے جلاتی ہوں

اپنے ہونے پہ فخر ہے مجھ کو

پاس رکھتی ہوں علم و حکمت کا

ہر کسی سے الجھ نہیں سکتی

میں ستاروں کے درمیاں رہ کر

روشنی سے الجھ نہیں سکتی

میری تہذیب کا تقاضہ ہے

خامشی کی زباں میں بات کروں

بھول کر بھی مِری خاموشی کو

اب یہاں شور نہ سمجھا جائے

لڑنا آتا ہے اپنے حق کے لیے

مجھ کو کمزور نہ سمجھا جائے


شازیہ عالم شازی

No comments:

Post a Comment