Monday, 4 May 2026

کچھ گیت جو تو نے لکھے ہیں

 سنتوش آنند جی کے لیے ایک نظم


دور کہیں ویرانے میں

اک کچے گھر کی کھڑکی کھلتی ہے

اور شام ڈھلے سہمے پیڑوں کو وہ ایک گیت سناتی ہے

جو تو نے لکھا ہے

اک بوڑھا جس نے راتوں میں چاند کی ساری شکلیں دیکھی ہیں

وہ اپنی بیوہ بد صورت بیٹی کو تیرا گیت سُناتا ہے

جو تُو نے لکھا ہے

اور ہمارے پہلو میں کچھ زخم ہرے رہتے ہیں

جو داغ نہیں ہوتے

ہم جب تک اک دُوجے کو 

تیرے گیت سُنا کر نہ روئیں تو چہرے صاف نہیں ہوتے

اس ویرانے کے اس پار اک دریا بہتا ہے

اس دریا کے پار ایک شہر تھا جس میں ہم جایا کرتے تھے

میں اس کے بازار سے چُوڑیاں لاتی تھی جب بابا گایا کرتے تھے

کچھ گیت جو تُو نے لکھے ہیں

بابا سے بھی اچھی تھی آواز اس کی

اس نے پہلی بار مجھے تحفے میں تیرا گیت سُنایا تھا

تُو جانے کس دیس میں بیٹھا گانے لکھتا ہے

اور ہمارے جیون کا حصہ بن جاتا ہے

بابا اب بوڑھے ہو گئے ہیں، وہ گا نہیں سکتے

اور میں کھڑکی کے پاس کھڑی 

ان کو جو گیت سُناتی ہوں، وہ تُو نے لکھے ہیں


شہباز گوہر

No comments:

Post a Comment