وصال
ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں
ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے
دیکھو تو سہی
زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے
مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں
ہم تو گزرتے سانس ہیں
جو گزرتے رستوں پر بکھرے ہیں
ہماری آواز کی بازگشت حقیقت بھی نہیں
ہم تو ہم ہیں
جو ماضی سے گزر آئے ہیں
فہیم جوزی
محمد اقبال کنور
No comments:
Post a Comment