Thursday, 28 May 2026

ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں

 وصال


ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں

ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے

دیکھو تو سہی

زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے

مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں

ہم تو گزرتے سانس ہیں

جو گزرتے رستوں پر بکھرے ہیں

ہماری آواز کی بازگشت حقیقت بھی نہیں

ہم تو ہم ہیں

جو ماضی سے گزر آئے ہیں


فہیم جوزی

محمد اقبال کنور

No comments:

Post a Comment