وقتِ رُخصت جو اثر تھا وہ اثر باقی ہے
کُھل گئی آنکھ مگر خواب کا ڈر باقی ہے
مِل گئے یوں تو ہمیں پھر در و دیوار نئے
گھر کے لُٹ جانے کا احساس مگر باقی ہے
کیسے ٹوٹے گا تِرے چاہے سے رشتہ دل کا
جب تلک تیغ ہے تیری، مِرا سر باقی ہے
ڈُوبتے ڈُوبتے دنیا سے کہا سُورج نے
اک سفر ختم ہوا، ایک سفر باقی ہے
شوقِ نظارہ ٹھہرنے نہیں دیتا مجھ کو
زندگی! تُو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے؟
شعر گوئی کے سوا کچھ نہ بچا ریحانہ
اب کہاں پاس مِرے کوئی ہُنر باقی ہے
ریحانہ نواب
No comments:
Post a Comment