وہ چشمِ فسُوں کار تماشائی ہو جیسے
لگتا ہے کہ صدیوں کی شناسائی ہو جیسے
یہ آنکھ سے گِرتے ہوئے آنسو تو نہیں ہیں
اک یاد جزیرے سے سے پلٹ آئی ہو جیسے
گویائی بھی ایسی تھی کہ سُنتے رہیں چُپ چاپ
خاموشی بھی ایسی تھی کہ گویائی ہو جیسے
میں ہجر سے یوں کھیلتے ہنستے ہوئے گُزرا
خیرات بُرے وقت میں کام آئی ہو جیسے
اک دشت نما شہر میں کب سے ہے بسیرا
اک شہر نما دشت میں تنہائی ہو جیسے
سلیم نتکانی
No comments:
Post a Comment