لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی
اس ستمگر کی پردہ داری کی
فصل لوگوں نے بانٹ لی ساری
کھیت کی ہم نے آبیاری کی
رنج کچھ اور بڑھ گیا دل کا
اس نے کچھ ایسے غمگساری کی
حالِ دل کہہ رہا تھا وہ اپنا
بات اس نے مگر ہماری کی
غیر لوگوں کا کیا گِلہ کرتے
ہم پہ یاروں نے سنگباری کی
اس کو رہنے دو اپنی حالت پر
دل کو عادت ہے بے قراری کی
عاشقِ نامراد ہے تمثیل
ایک ہارے ہوئے جواری کی
شاہنواز سواتی
No comments:
Post a Comment