Wednesday, 13 May 2026

لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی

 لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی

اس ستمگر کی پردہ داری کی

فصل لوگوں نے بانٹ لی ساری

کھیت کی ہم نے آبیاری کی

رنج کچھ اور بڑھ گیا دل کا 

اس نے کچھ ایسے غمگساری کی

حالِ دل کہہ رہا تھا وہ اپنا 

بات اس نے مگر ہماری کی

غیر لوگوں کا کیا گِلہ کرتے

ہم پہ یاروں نے سنگباری کی

اس کو رہنے دو اپنی حالت پر

دل کو عادت ہے بے قراری کی 

عاشقِ نامراد ہے تمثیل

ایک ہارے ہوئے جواری کی


شاہنواز سواتی

No comments:

Post a Comment