یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا
کس کا غلام آج ہر اک فرد ہو گیا
وہ شخص آئینہ تھا کہ میں اس کے سامنے
آیا ہی تھا کہ رنگ مِرا زرد ہو گیا
غیروں سے کٹ کے یہ بڑا اعزاز ہے مِرا
میں اپنے کارواں کی اگر گرد ہو گیا
وہ میرے ساتھ تھا تو بھری انجمن تھا میں
وہ کیا جدا ہوا کہ میں اک فرد ہو گیا
گھر ہی میں کیا وہ جسم کے اندر بھی قید تھا
مجھ سے ملا تو وہ بھی جہاں گرد ہو گیا
اس درجہ بڑھ گئی مِرے لہجے کی نرم آنچ
میں جس سے بھی ملا وہی ہمدرد ہو گیا
شاہد واسطی
No comments:
Post a Comment