Wednesday, 13 May 2026

یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا

 یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا

کس کا غلام آج ہر اک فرد ہو گیا

وہ شخص آئینہ تھا کہ میں اس کے سامنے 

آیا ہی تھا کہ رنگ مِرا زرد ہو گیا

غیروں سے کٹ کے یہ بڑا اعزاز ہے مِرا

میں اپنے کارواں کی اگر گرد ہو گیا

وہ میرے ساتھ تھا تو بھری انجمن تھا میں

وہ کیا جدا ہوا کہ میں اک فرد ہو گیا

گھر ہی میں کیا وہ جسم کے اندر بھی قید تھا

مجھ سے ملا تو وہ بھی جہاں گرد ہو گیا

اس درجہ بڑھ گئی مِرے لہجے کی نرم آنچ

میں جس سے بھی ملا وہی ہمدرد ہو گیا


شاہد واسطی

No comments:

Post a Comment