شیشۂ ساعت کا غبار
میں زندہ تھا
مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا
ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی
نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم
تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم
مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے
آخری خطوط سے سوا نہ تھی
میں حال کے اتھاہ پانیوں میں غرق
یا گزشتہ وقت کے بھنور کے دستِ آتشیں میں ایک صیدِ زرد تھا
تو میں نے کیا کِیا
کہ اپنی سانس روک کر کے، آنکھیں میچ کر کے
سر کو آگے کر کے، شانوں کو جھٹک کر
ایک جست میں ہی جست کی سی سرد چھت کو توڑ کر
میں اس کے پار ہو گیا
طلسم سے صدا اٹھی؛ "ہمیں شکست ہو گئی
شکست ہو گئی، کست ہو گئی، است ہو گئی
تو گئی، او گئی"
شب برأت
آتشیں تماشوں کا سماں
اٹھا کے میری بچیوں نے ناگہاں
پچاس پیسے کے انار کے لبوں پہ ایک قطرہ نار رکھ دی
خاک کو یہ گرم بوسہ کب نصیب تھا
انار میں جو قید تھا، جو ذرہ ذرہ صید تھا
وہ جن ابل پڑا
سیاہیاں سفید، سرخ، نیلگوں طیور سے چمک اٹھیں
مگر نہ جانے پھر کدھر طیور اڑ گئے
انار کو شب برأت نے ندی میں دفن کر دیا
صدائے بازگشت
قطرہ قطرہ کنکروں کی طرح
غرق ہو گئی
طلسم رہ گیا
مگر طلسم میں جو قید تھا
وہ اس صدا کے ساتھ
کھو گیا
شمس الرحمٰن فاروقی
No comments:
Post a Comment