Tuesday, 5 May 2026

کوئی ریت رقص میں مست تھی کہ ہوا چلی تھی سرور سے

 کوئی ریت رقص میں مست تھی کہ ہوا چلی تھی سرُور سے

تِرے زاویے پہ ہی گُھومتا ہوا آ گیا کوئی دُور سے

تجھے اتنے پاس سے دیکھ لے کوئی اہل ہے نہ یہ سہل ہے

کبھی جسم گُھلتا ہے آگ میں، کبھی آنکھ جلتی ہے نُور سے

مجھے کوئی فکرِ فنا بھی کیا، میں تو جانتا ہوں بقا ہے کیا

تجھے ڈُھونڈنے سے نہیں ملا میں نے پا لیا ہے شعُور سے

کوئی اور مجھ میں ہُنر نہ تھا، مجھے بندگی نے بڑا کیا

اسے شہنشاہ نے بھی رد کیا وہ بھرا ہوا تھا غرُور سے

مِرے کاریگر تِرے بس میں ہے یہ حیات بھی یہ ممات بھی

تِِری "کُن" سے ہے مِری ابتدا، مِری انتہا تِرے صُور سے

نہ ہی کوئی نغمہ نہ ساز بھی، نہ ہی زندگی کا جواز بھی

تو کیا مِٹ گیا ہے شیراز بھی، تِری داستاں کی سطُور سے


شیراز علی

No comments:

Post a Comment