خواب آنکھوں میں ٹُوٹ جاتے ہیں
روز ہم کِرچیاں اُٹھاتے ہیں
آدمی ہیں مگر خدا کی قسم
ہم خداؤں کے کام آتے ہیں
بزمِ رِنداں سجے گی آج کی شب
آ تجھے روشنی میں لاتے ہیں
خواب آنکھوں میں ٹُوٹ جاتے ہیں
روز ہم کِرچیاں اُٹھاتے ہیں
آدمی ہیں مگر خدا کی قسم
ہم خداؤں کے کام آتے ہیں
بزمِ رِنداں سجے گی آج کی شب
آ تجھے روشنی میں لاتے ہیں
حالات کا غبار مجھے یاد رہ گیا
ایک بے وفا کا پیار مجھے یاد رہ گیا
ہر نقش دلبری مِرا دھندلا کے رہ گیا
بس تیرا انتظار مجھے یاد رہ گیا
غیرو کی پالکی تھی سجی تیرے واسطے
تو ہو گیا سوار مجھے یاد رہ گیا
یہ جو بدن میں لہو کو امان دی ہوئی ہے
کسی کو جینے کی ہم نے زبان دی ہوئی ہے
تجھے ہم اپنے تعارف میں کیا کہیں پیارے
ہمارے واسطے لوگوں نے جان دی ہوئی ہے
وہ بے وفا ہے مگر محترم ہے میرے لیے
کہ اُس نے میری غزل کو اُٹھان دی ہوئی ہے
یہ اک احساس ہی کتنا کڑا ہے
کہ تیرے بعد بھی جینا پڑا ہے
کوئی میری قد و قامت نہ دیکھے
میرے اندر کوئی مجھ سے بڑا ہے
عنایت ہے یہ میرے دوستوں کی
جو نیزہ میرے سینے میں گڑا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِرے دل کو مدینے کی تمنا بھی وہی دیں گے
پھر اس کے بعد طیبہ کا بلاوا بھی وہی دیں گے
مجھے کیا غم وسائل کا وه حل ہیں سب مسائل کا
کہ جو ازن سفر دیں گے کرایہ بھی وہی دیں گے
بچانا جن کو آتا ہے قیامت خیز طوفاں سے
مِری غمگین کشتی کو کنارہ بھی وہی دیں گے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دونوں عالم میں فروزاں ہے اُجالا تیرا
مظہرِ نُورِ خدا ہے رُخِ زیبا تیرا
اُس کی آنکھوں میں مدینے کی جھلک دیکھتا ہوں
جب بھی آتا ہے کوئی دیکھ کے روضہ تیرا
اے براہیمی لقب ہاشمی و مُطّلبی
ساری دنیا سے معطر ہے قبیلہ تیرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب کسی طور نہ دارین کا صدقہ اُترے
کِس طرح پھر شہِ کونینؐ کا صدقہ اُترے
ان گِنت جنتیں بٹ جائیں گنہگاروں میں
اُنؐ کے ماں باپ کریمین کا صدقہ اُترے
اِک اُچٹتی سی نظر ڈال دیں سرکارؐ اگر
کعبتہ اللہ کے طرفین کا صدقہ اُترے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اپنی عظمت یُوں زمانے کو دکھا دیتے ہیں آپﷺ
لوگ پتھر مارتے ہیں اور دُعا دیتے ہیں آپﷺ
دِین کی تبلیغ کا انداز ہے کیا مُنفرد
لوگ کُوڑا پھینکتے ہیں مُسکرا دیتے ہیں آپﷺ
بند مُٹھی سے صدائے لا الہ آنے لگی
پتھروں کو کلمۂ وحدت پڑھا دیتے ہیں آپﷺ
جہان بھر کے لیے اضطراب دوسرے ہیں
ہماری ذات کے لیکن عذاب دوسرے ہیں
اسے نصیب کہیں یا فشارِ جبر اے دل
کمال ہم کو مِلے کامیاب دوسرے ہیں
یہ زخم زارِ تمنا ہے یاں قیام نہ کر
نہ چُھو کے دیکھ انہیں یہ گلاب دوسرے ہیں