Saturday, 19 March 2022

جہان بھر کے لیے اضطراب دوسرے ہیں

  جہان بھر کے لیے اضطراب دوسرے ہیں

ہماری ذات کے لیکن عذاب دوسرے ہیں

اسے نصیب کہیں یا فشارِ جبر اے دل

کمال ہم کو مِلے کامیاب دوسرے ہیں

یہ زخم زارِ تمنا ہے یاں قیام نہ کر

نہ چُھو کے دیکھ انہیں یہ گلاب دوسرے ہیں

مجھے حیات نے بخشی ہیں اور تعبیریں

میں کیا کروں مِری آنکھوں میں خواب دوسرے ہیں

ہمیں جو ملتی ہے تعلیم وہ ہے اور ہی کچھ

مگر حیاتِ عمل کے نصاب دوسرے ہیں

مِرے شعور مِرے فن کا قدردان ہے تُو

مگر یہ کیا کہ تِرا انتخاب دوسرے ہیں


سرور خان سرور

No comments:

Post a Comment