جہان بھر کے لیے اضطراب دوسرے ہیں
ہماری ذات کے لیکن عذاب دوسرے ہیں
اسے نصیب کہیں یا فشارِ جبر اے دل
کمال ہم کو مِلے کامیاب دوسرے ہیں
یہ زخم زارِ تمنا ہے یاں قیام نہ کر
نہ چُھو کے دیکھ انہیں یہ گلاب دوسرے ہیں
مجھے حیات نے بخشی ہیں اور تعبیریں
میں کیا کروں مِری آنکھوں میں خواب دوسرے ہیں
ہمیں جو ملتی ہے تعلیم وہ ہے اور ہی کچھ
مگر حیاتِ عمل کے نصاب دوسرے ہیں
مِرے شعور مِرے فن کا قدردان ہے تُو
مگر یہ کیا کہ تِرا انتخاب دوسرے ہیں
سرور خان سرور
No comments:
Post a Comment