کشمیر
آج کیا ہو گا
چند ریلیاں نکلیں گی
چند نعرے گونجیں گے
منصب رسم زباں ادا کریں گے
دعویدار بنا محسوس کیے ہی چنگ و آہ کریں گے
کوئی پرچم کشاں کرے گا
کوئی نغمہ و نا لہ فغاں کرے گا
یہ کیا ہے کیا
یہ سب کیا ہے
کوئی تو سرا پکڑے دوڑ کو سُلجھائے
جمیت وغیرت کی جھلک کہیں تو نظر آئے
کب تک نیم جاں کشمیر رِستہ رہے گا
زخم پہ زخم پھر اور زخم
یہ زخم کا سلسلہ کب تک بڑھتا رہے گا
سلمہ جہاں
سلمیٰ جہاں
No comments:
Post a Comment