سانولی
حکم آیا کہ نظمیں بھی لکھا کرو
سرخ لفظوں کی مانگیں سجایا کرو
کچھ ہماری نذر بھی کرو حرفِ جاں
کچھ ہم پہ چڑھاوے چڑھایا کرو
سانولی
رات کے آخری پہر کو
نظم یکدم نگاہوں کے آگے کھڑی ہو گئی
سانولی
آنکھ بہنے لگی، عکس بننے لگا، وقت رکنے لگا
اور موقوف شاید گھڑی ہو گئی
سانولی
میری ہونٹوں کی لرزش سے پھر
شعر گرنے لگے اور سنبھلنے لگے
اور کہیں دور ویران صحرا میں
بارش کے کچھ قطروں سے
ریگ کے کتنے بے جان ذرے سنورنے لگے
سانولی
بند کمرے میں اور گھپ اندھیرے میں
شاید کہ اک یاد ہے مجھ کو گھیرے ہوئے
میرے وجدان پر میرے الہام پر
چھاپ چھوڑے ہوئے ذہن توڑے ہوئے
بند کمرے میں بھی گھپ اندھیرے میں بھی
میری آنکھوں کو سب کچھ دکھائی پڑے
میری سگرٹ کا کش اور کش کا دھواں
عکس بُنتا ہے، تحلیل ہو جاتا ہے
سانولی
تیری آنکھیں وہ گہری، وہ چہرہ حسیں
آنکھ پڑتے ہی معدوم ہو جاتا ہے
اور عدم کے کسی گور خانے سے
مجھ کو خموشی کا نوحہ سنائی پڑے
سانولی
تیری آنکھوں کی تیکھی لگاوٹ سے آگے ذرا
تیری زلفوں کی الجھن شروع ہوتی ہے
تیرے چندن بدن کی تھکن سے پرے
تیرے سانسوں کی خوشبو مہک ہوتی ہے
سانولی
تیرے ہاتھوں کی مہندی سے بھی
سحر جادو کی کایا پلٹ ہوتی ہے
تیری انگلی کے مبہم اشاروں سے تو
ندیوں کی بھی روانی الٹ ہوتی ہے
سانولی
تیرے پیروں کی پازیب میں
گھنگھرؤں کی نمازیں ادا ہوتی ہیں
خود صنم تیری پوجا میں گر پڑتے ہیں
اور بچاری کے لب پہ غزل ہوتی ہے
سانولی
تیرے ہونٹوں کے جنبش سے گر
یہ صحیفے خدا کی دعا بنتے ہیں
تیری پلکوں کی ہلکی لہک سے
اگر یہ تغافل جفا سے ادا بنتے ہیں
سانولی
تو جو دیکھے پلٹ کے اگر
تو بیماروں کو فوراً شفا ملتی ہے
سانولی
تیرے در کے پجاری کو بھی
کتنے ولیوں سے دیکھو دعا ملتی ہے
سانولی
تو گماں ہے تو کیا خواب میں
اتنے اونچے تکلم نہاں ہوتے ہیں؟
اور کتنے تبسم نہاں ہوتے ہیں جو کہ
وحشت سے سہمے ڈرے رہتے ہیں
گر اداسی کی آنکھوں میں کچھ دیر تک
اپنے ظاہری ورودوں کے وہ دیکھ لیں
چیر ڈالیں گریبان سینوں سے اور
وہ کلیجوں پہ وحشت کشیدہ کریں
سانولی
تو حقیقت ہے تو پھر یہ بتا
کیا تعبیروں سے ہنسی پلٹ آتی ہے؟
عشق مل جائے گر تیرے مجزوب کو
تو کیا یہ وحشت ہمیشہ سمٹ جاتی ہے
سانولی
تیری مسکان کی یاد میں پھول کھلتے ہیں
کھل کے امر ہوتے ہیں
اور جب عنبریں ہونٹ مرجھاتے ہیں
پھول مرجھا کے، مر کے امر ہوتے ہیں
سانولی
کیا گمانوں کی دیواروں سے
اتنے اونچے تخیل بھی دکھ جاتے ہیں
تو جو موجود ہے (اور ہے بھی نہیں)
تیری صورت دِیواروں پہ کھدواتے ہیں
سانولی
جس کی آنکھوں میں وحشت کی ترتیب سے
اس بے صورت کی صورت نظر آتی ہے
سانولی جس کی الجھن کی تاثیر سے
خود لیلی عرب میں مچل جاتی ہے
سانولی جس کی وحشت کی تکمیل پہ
داد جنگل میں مجنوں کو ملنے لگے
سانولی جس کے ہونٹوں کی تاویل سے
دریا صحرا کی بانہوں میں گرنے لگے
سانولی
تجھ کو اتنا گوارا نہیں
جس دیوانے کو منظر دکھائی دیے
اک گھڑی اس سے احوال پوچھے مگر
تیری آنکھوں کو کب یہ دکھائی پڑے؟
تیرے کانوں کو کب یہ سنائی دئیے؟
سانولی
تیرے دکھ کو سمجھتا ہوں میں
جانتا ہوں کہ پیروں میں زنجیر ہے تو
رسموں رواجوں سے گھیری ہوئی
تو اداسی کی کامل تصویر ہے
تیرے رستے میں سرحد کی دوری ہے
اور تیرے تلووں پہ چلنے کی تفسیر ہے
سانولی
یاد کر وہ گھڑی
جس گھڑی یار روحوں کے اقرار باندھے گئے
تیری میری سمجھ اور اذہان سے حکمتیں
فلسفے اور افکار باندھے گئے
سانولی
یہ سبھی گر حقیقت ہے پھر
(اور اگرچہ مکمل حقیقت ہے یہ)
اک دفعہ (بھی مِری جان کے قاتلا)
تو نے بیمار کو مڑ کے دیکھا نہیں
اور دعا دے کے خود اپنے مجذوب کو
پھر صلیبوں پہ سجتا بھی دیکھا نہیں
عشق اس کی رگوں میں اترتے ہوئے
اس کی نبضوں کو پھٹتا بھی دیکھا نہیں
آئنے کو تڑختے بھی دیکھا نہیں
سانولی
تجھ کو لفظوں سے قائل کروں
مجھ ایسا دیوانہ بھی دیکھا نہیں
سانولی
حرف، الفاظ، نظمیں یہ غزلیں، ردیفیں
سبھی قافیے یہ سبھی کچھ تمھاری ہی جاگیر ہے
تو کہ شعروں کی ملکہ سبا اور ہد ہد کی آنکھوں کی تصویر ہے
اور تختِ سلیماں کی تقدیر ہے
سانولی
تیرے شعروں کی فریاد میں راز ایسے بھی تھوڑے نہاں ہوتے ہیں
لفظ روتے ہیں ماتم کناں ہوتے ہیں
صورتیں، الفتیں، حسرتیں، وحشتیں
عکس بنتے ہیں بن کے دھواں ہوتے ہیں
سانولی
تیری آنکھوں کی وحشت کے درپن میں اب
خواب مل کے یوں محو فغاں ہوتے ہیں
گم گشتہ خوابوں کے سینوں پہ جوں
تازیانوں کے گہرے نشاں ہوتے ہیں
سانولی
پھر بھی اتنا تو دیکھو ذرا
اس کی سانسوں کے رکنے میں جو دیر ہے
اس کی صورت پہ ہاتھوں کو پھیرو ذرا
یہ سنا ہے نزع میں بہت درد ہے
تیرے انگلی کے پوروں کے احساس سے
درد پل بھر میں ایسے رفع ہوتا ہے
جوں تعوذ پڑھنے کے ایک پل میں ہی ابلیس فوراً دفع ہوتا ہے
امیر سخن
No comments:
Post a Comment