بندگی کرنے کے آداب الگ ہوتے ہیں
عشق کے منبر و محراب الگ ہوتے ہیں
دل کا آزار کبھی جان نہیں لے سکتا
جان سے جانے کے اسباب الگ ہوتے ہیں
عشق اندیشۂ عبرت سے نکلتا ہی نہیں
دل الگ ہوتا ہے، اعصاب الگ ہوتے ہیں
بندگی کرنے کے آداب الگ ہوتے ہیں
عشق کے منبر و محراب الگ ہوتے ہیں
دل کا آزار کبھی جان نہیں لے سکتا
جان سے جانے کے اسباب الگ ہوتے ہیں
عشق اندیشۂ عبرت سے نکلتا ہی نہیں
دل الگ ہوتا ہے، اعصاب الگ ہوتے ہیں
سیلابوں کے بعد ہم ایسے دیوانے ہو جاتے ہیں
اپنے گھر سے اس کے گھر تک پہروں دوڑ لگاتے ہیں
ہم نے اپنے ہاتھ زمیں میں داب رکھے ہیں اس ڈر سے
دستِ طلب پھیلانے والے دیوانے کہلاتے ہیں
ان آنکھوں کی سیوا کر کے ہم نے جادو سیکھ لیا
جب بھی طبیعت گھبراتی ہے پتھر کے ہو جاتے ہیں
مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
مگر یہ حال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
میں ٹوٹتا بھی ہوں اور خود ہی جڑ بھی جاتا ہوں
کہ یہ کمال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے
سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
گزر چکا ہے زمانہ وصال کرنے کا
یہ کوئی وقت ہے تیرے کمال کرنے کا
برا نہ مان جو پہلو بدل رہا ہوں میں
مِرا طریقہ ہے یہ عرض حال کرنے کا
مجھے اداس نہ کر ورنہ ساکھ ٹوٹے گی
نہیں ہے تجربہ مجھ کو ملال کرنے کا
کیا دیوانہ ہو گیا تھا میں
موت کو مارنے چلا تھا میں
اس زمانے میں اس نے ساتھ دیا
جس زمانے میں بے وفا تھا میں
غم نے یک طرفہ کر دیا ورنہ
ایک دو طرفہ راستہ تھا میں
خود ہی تسلیم بھی کرتا ہوں خطائیں اپنی
اور تجویز بھی کرتا ہوں سزائیں اپنی
کوئی دیکھے تو اداکاریاں کرنا اس کا
بند آئینے میں کرتی ہے ادائیں اپنی
میں سخنور ہوں سو خاموش نہیں رہ سکتا
میں نے آنکھوں میں بسائی ہیں صدائیں اپنی
مِرے بارے میں کچھ سوچو مجھے نیند آ رہی ہے
مجھے ضائع نہ ہونے دو، مجھے نیند آ رہی ہے
مِرے اندر کے دُکھ چہرے سے ظاہر ہو رہے ہیں
مِری تصویر مت کھینچو، مجھے نیند آ رہی ہے
تو کیا سارے گِلے شکوے ابھی کر لو گے مجھ سے
کچھ اب کل کے لیے رکھو، مجھے نیند آ رہی ہے
مٹی ہو کر عشق کیا ہے اک دریا کی روانی سے
دیوار و در مانگ رہا ہوں میں بھی بہتے پانی سے
بے خبری میں ہونٹ دِیے کی لو کو چومنے والے تھے
وہ تو اچانک پھوٹ پڑی تھی خوشبو رات کی رانی سے
وہ مجبوری موت ہے جس میں کاسے کو بنیاد ملے
پیاس کی شدت جب بڑھتی ہے ڈر لگتا ہے پانی سے