Showing posts with label محسن اسرار. Show all posts
Showing posts with label محسن اسرار. Show all posts

Thursday, 4 December 2025

عشق کے منبر و محراب الگ ہوتے ہیں

 بندگی کرنے کے آداب الگ ہوتے ہیں

عشق کے منبر و محراب الگ ہوتے ہیں

دل کا آزار کبھی جان نہیں لے سکتا

جان سے جانے کے اسباب الگ ہوتے ہیں

عشق اندیشۂ عبرت سے نکلتا ہی نہیں

دل الگ ہوتا ہے، اعصاب الگ ہوتے ہیں

Monday, 29 August 2022

سیلابوں کے بعد ہم ایسے دیوانے ہو جاتے ہیں

 سیلابوں کے بعد ہم ایسے دیوانے ہو جاتے ہیں

اپنے گھر سے اس کے گھر تک پہروں دوڑ لگاتے ہیں

ہم نے اپنے ہاتھ زمیں میں داب رکھے ہیں اس ڈر سے

دستِ طلب پھیلانے والے دیوانے کہلاتے ہیں

ان آنکھوں کی سیوا کر کے ہم نے جادو سیکھ لیا

جب بھی طبیعت گھبراتی ہے پتھر کے ہو جاتے ہیں

Wednesday, 16 February 2022

مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

مگر یہ حال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

میں ٹوٹتا بھی ہوں اور خود ہی جڑ بھی جاتا ہوں

کہ یہ کمال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے

سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

Sunday, 6 February 2022

گزر چکا ہے زمانہ وصال کرنے کا

 گزر چکا ہے زمانہ وصال کرنے کا

یہ کوئی وقت ہے تیرے کمال کرنے کا

برا نہ مان جو پہلو بدل رہا ہوں میں

مِرا طریقہ ہے یہ عرض حال کرنے کا

مجھے اداس نہ کر ورنہ ساکھ ٹوٹے گی

نہیں ہے تجربہ مجھ کو ملال کرنے کا

Tuesday, 13 July 2021

کیا دیوانہ ہو گیا تھا میں

 کیا دیوانہ ہو گیا تھا میں

موت کو مارنے چلا تھا میں

اس زمانے میں اس نے ساتھ دیا

جس زمانے میں بے وفا تھا میں

غم نے یک طرفہ کر دیا ورنہ

ایک دو طرفہ راستہ تھا میں

Sunday, 30 May 2021

خود ہی تسلیم بھی کرتا ہوں خطائیں اپنی

 خود ہی تسلیم بھی کرتا ہوں خطائیں اپنی

اور تجویز بھی کرتا ہوں سزائیں اپنی

کوئی دیکھے تو اداکاریاں کرنا اس کا

بند آئینے میں کرتی ہے ادائیں اپنی

میں سخنور ہوں سو خاموش نہیں رہ سکتا

میں نے آنکھوں میں بسائی ہیں صدائیں اپنی

Monday, 17 May 2021

مرے بارے میں کچھ سوچو مجھے نیند آ رہی ہے

 مِرے بارے میں کچھ سوچو مجھے نیند آ رہی ہے

مجھے ضائع نہ ہونے دو، مجھے نیند آ رہی ہے

مِرے اندر کے دُکھ چہرے سے ظاہر ہو رہے ہیں

مِری تصویر مت کھینچو، مجھے نیند آ رہی ہے

تو کیا سارے گِلے شکوے ابھی کر لو گے مجھ سے

کچھ اب کل کے لیے رکھو، مجھے نیند آ رہی ہے

Sunday, 27 September 2020

مٹی ہو کر عشق کیا ہے اک دریا کی روانی سے

 مٹی ہو کر عشق کیا ہے اک دریا کی روانی سے

دیوار و در مانگ رہا ہوں میں بھی بہتے پانی سے

بے خبری میں ہونٹ دِیے کی لو کو چومنے والے تھے

وہ تو اچانک پھوٹ پڑی تھی خوشبو رات کی رانی سے

وہ مجبوری موت ہے جس میں کاسے کو بنیاد ملے

پیاس کی شدت جب بڑھتی ہے ڈر لگتا ہے پانی سے

Saturday, 24 December 2016

پوچھا جو میں نے جان سے جانا پڑے گا کیا

پوچھا جو میں نے جان سے جانا پڑے گا کیا
“جل کر کہا پھر اس نے ”بتانا پڑے گا کیا
اے چشمِ دوست! میرے گریباں کی سمت دیکھ
وحشت کا بوجھ یوں بھی اٹھانا پڑے گا کیا
آخر کہاں چلا گیا دل سے نشاطِ غم
اے زندگی! تجھے بھی منانا پڑے گا کیا

ہم اپنے ذہن پر پہلے اسے طاری کریں گے

ہم اپنے ذہن پر پہلے اسے طاری کریں گے
پھر اس کے بعد اپنے قلب کو جاری کریں گے
ہم اپنے ظاہر و باطن کا اندازہ لگا لیں
پھر اس کے سامنے جانے کی تیاری کریں گے
محبت ہم سے اس کو ہو گئی تو ٹھیک ورنہ
ہم اپنی ساکھ رکھنے کو اداکاری کریں گے

Sunday, 18 December 2016

سماعتوں کے لیے راز چھوڑ آئے ہیں

سماعتوں کے لیے راز چھوڑ آئے ہیں
ہم اس کے شہر میں آواز چھوڑ آئے ہیں
ہم اس کی سوچ میں امکانِ انتہا سے الگ
نیا سفر، نیا آغاز چھوڑ آئے ہیں
مذاکرات، سرِ وصل کامیاب رہے   
جو کچھ کِیا تھا پس انداز چھوڑ آئے ہیں

اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا

اچھا ہے وہ بیمار، جو اچھا نہیں ہوتا
جب تجربے ہوتے ہیں تو دھوکا نہیں ہوتا
جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں
کہتا بھی تو وہ اس کو گوارا نہیں ہوتا
تکذیبِ جنوں کیلئے اک شک ہی بہت ہے
بارش کا سمے ہو تو ستارا نہیں ہوتا

دلاسا دے وگرنہ آنکھ کو گریہ پکڑ لے گا

دلاسہ دے، وگرنہ آنکھ کو گِریہ پکڑ لے گا
تِرے جاتے ہی پھر مجھ کو غمِ دنیا پکڑ لے گا
سفر گو واپسی کا ہے، مگر تُو ساتھ رہ میرے
مجھے یہ خوف ہے مجھ کو میرا سایہ پکڑ لے گا
تُو اپنے دل ہی دل میں بس مجھے آواز دیتا رہ
سماعت کو مِری ورنہ یہ سناٹا پکڑ لے گا

اس کی جز بز سے پریشان نہیں ہو سکتا

اس کی جزبز سے پریشان نہیں ہو سکتا
دل اگر دل ہے، تو ہلکان نہیں ہو سکتا
یاد اس کی ہے تو برباد نہیں ہوسکتی
ذہن میرا ہے تو بے دھیان نہیں ہو سکتا
کس قناعت سے رہا گھر مِرے آ کر مہمان
یہ کوئی اور ہے، مہمان نہیں ہو سکتا

بازار کی گرمی کو حدت نہیں گردانا

بازار کی گرمی کو حِدت نہیں گردانا
قیمت کو کسی شے کی قیمت نہیں گردانا
نیلام کِیا ہم نے حساس طبیعت کو 
جب دل نے تمنا کو حسرت نہیں گردانا
دکھ ہجر کے کھولے ہیں بستر کی اذیت نے
تکیے کو سرہانے کی خدمت نہیں گردانا

رت بدلتی ہے تو آثار بدل جاتے ہیں

رُت بدلتی ہے، تو آثار بدل جاتے ہیں
اٹھیے چوپال سے تو یار بدل جاتے ہیں
ایک دو دن کوئی دستک نہیں دیتا ہے اگر
میرے گھر کے در و دیوار بدل جاتے ہیں
کچھ تو کردار بدلتے ہیں کہانی اپنی
کچھ کہانی کے بھی کردار بدل جاتے ہیں

Saturday, 26 September 2015

عشق صادق ہی تو معیار طلب کرتا ہے

عشقِ صادق ہی تو معیار طلب کرتا ہے
یہ سکوں بانٹ کے آزار طلب کرتا ہے
جس کی گرمی سے مہک اٹھتا ہے پندارِ وفا
شعلۂ عشق، وہ دلدار طلب کرتا ہے
اک جہاں، وہ بھی مکمل سا، مِلے ہے کس کو
قلبِ معصوم تو بے کار طلب کرتا ہے

جذبہ چھپا تھا یوں بھی خریدار میں بہت

جذبہ چھپا تھا یوں بھی خریدار میں بہت
چرچا رہا تھا حُسن کا بازار میں بہت
ان سے نظر مِلی تو خِرد دَم بخود ہوئی
یوں تو یگانہ ہم بھی تھے گُفتار میں بہت
قیمت تو کیا، نگاہِ خریدار تک نہیں
ہیں خواب یُوں تو کُوچہ و بازار میں بہت

خیال و خواب کو پابند خوئے یار رکھا

خیال و خواب کو پابندِ خوئے یار رکھا
سو دل کو دل کی جگہ ہم نے بار بار رکھا
اسے بھی میں نے بہت خود پہ اختیار دِیے
اور اس طرح کہ بہت خود پہ اختیار رکھا
دکھوں کا کیا ہے مجھے فکر ہے کہ اس نے کیوں
بچھڑتے وقت بھی لہجے کو خوشگوار رکھا

چراغ راہگزر ہے جلا رہے گا وہ

چراغِ راہ گزر ہے جلا رہے گا وہ
مگر ہوا کے لیے مسئلہ رہے گا وہ
کہاں ہے ہجر میں رہنے کا تجربہ اس کو
تمام عمر دعا مانگتا رہے رہے گا وہ
جگہ بدلنے سے ہیئت کہاں بدلتی ہے
جو آئینہ ہے، سدا آئینہ رہے گا وہ