کیا دیوانہ ہو گیا تھا میں
موت کو مارنے چلا تھا میں
اس زمانے میں اس نے ساتھ دیا
جس زمانے میں بے وفا تھا میں
غم نے یک طرفہ کر دیا ورنہ
ایک دو طرفہ راستہ تھا میں
جس قدر جوڑتا تھا میں خود کو
اس قدر اور ٹوٹتا تھا میں
جن دنوں پھول بھیجتی تھی وہ
ان دنوں خود سے لڑ رہا تھا میں
اپنے کچھ جھوٹ لکھنے کے دوران
اس کا اک سچ بھی لکھ گیا تھا میں
موت حیرت سے تک رہی تھی مجھے
دوسری بار جب مَرا تھا میں
کس رہی تھی وہ مجھ پہ آوازہ
اور بس چائے پی رہا تھا میں
وہ کہانی پرائے شخص کی تھی
جس کہانی کا سلسلہ تھا میں
اس کی باتیں مجھے رُلا دیتیں
بس اچانک ہی ہنس پڑا تھا میں
جن دنوں نیند مجھ کو آتی تھی
ان دنوں کتنا جاگتا تھا میں
تم نے دریافت کر لیا کیسے
سب تو کہتے ہیں گمشدہ تھا میں
گردشِ وقت ڈر گئی مجھ سے
آپ کو یاد کر رہا تھا میں
سب پرندے خلا میں ٹھہر گئے
ہاتھ میں دل لیے کھڑا تھا میں
محسن اسرار
No comments:
Post a Comment