Tuesday, 13 July 2021

کیا دیوانہ ہو گیا تھا میں

 کیا دیوانہ ہو گیا تھا میں

موت کو مارنے چلا تھا میں

اس زمانے میں اس نے ساتھ دیا

جس زمانے میں بے وفا تھا میں

غم نے یک طرفہ کر دیا ورنہ

ایک دو طرفہ راستہ تھا میں

جس قدر جوڑتا تھا میں خود کو

اس قدر اور ٹوٹتا تھا میں

جن دنوں پھول بھیجتی تھی وہ

ان دنوں خود سے لڑ رہا تھا میں

اپنے کچھ جھوٹ لکھنے کے دوران

اس کا اک سچ بھی لکھ گیا تھا میں

موت حیرت سے تک رہی تھی مجھے

دوسری بار جب مَرا تھا میں

کس رہی تھی وہ مجھ پہ آوازہ

اور بس چائے پی رہا تھا میں

وہ کہانی پرائے شخص کی تھی

جس کہانی کا سلسلہ تھا میں

اس کی باتیں مجھے رُلا دیتیں

بس اچانک ہی ہنس پڑا تھا میں

جن دنوں نیند مجھ کو آتی تھی

ان دنوں کتنا جاگتا تھا میں

تم نے دریافت کر لیا کیسے

سب تو کہتے ہیں گمشدہ تھا میں

گردشِ وقت ڈر گئی مجھ سے

آپ کو یاد کر رہا تھا میں

سب پرندے خلا میں ٹھہر گئے

ہاتھ میں دل لیے کھڑا تھا میں


محسن اسرار

No comments:

Post a Comment