جو ہم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا، یہ کافر ہے
ہمارا جبر یہ ہنس کر نہیں سہتا، یہ کافر ہے
بہت بے شرم ہے یہ ماں، جو مزدوری کو نکلی ہے
یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا، یہ کافر ہے
یہ بادل، ایک رستے پر نہیں چلتے، یہ باغی ہیں
یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا، یہ کافر ہے
ہیں مُشرک یہ ہوائیں، روز یہ قبلہ بدلتی ہیں
گھنا جنگل انہیں کچھ بھی نہیں کہتا، یہ کافر ہے
یہ تِتلی فاحشہ ہے، پھول کے بستر پہ سوتی ہے
یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافر ہے
شریعتاً، کسی کا گنگنانا بھی، نہیں جائز
یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چُپ نہیں رہتا، یہ کافر ہے
جُڑا ہے ارتقا، قدرت اور انساں کی مثلث سے
ہمارے دائرے میں کیوں نہیں رہتا، یہ کافر ہے
اسے سنگسار کر دو، جذبۂ ایماں، نہیں اس میں
کبھی کافر کو بھی کافر نہیں کہتا، یہ کافر ہے
ستاروں پر، کمندیں ڈالنے کا، عزم رکھتا ہے
پہاڑوں اور غاروں میں نہیں رہتا، یہ کافر ہے
شکیل جعفری
No comments:
Post a Comment