ہم ہی نے سیکھ لیا رہ گزر کو گھر کرنا
وگرنہ اس کی تو عادت ہے در بہ در کرنا
نہ اپنی راہ تھی کوئی نہ کوئی منزل تھی
تبھی تو چاہا تھا تجھ کو ہی ہمسفر کرنا
تھیں گرچہ گرد مِرے خامشی کی دیواریں
تمہارے واسطے مشکل نہیں تھا در کرنا
تِری نگاہ تغافل شعار کے صدقے
ہمیں بھی آ ہی گیا ہے گزر بسر کرنا
جو اب کے درد اٹھا دل میں آخری ہو گا
جو ہو سکے تو اسے میرا چارہ گر کرنا
میں چور چور ہوں دیکھو بکھر نہ جاؤں کہیں
مِری دعاؤں کو اتنا نہ بے اثر کرنا
بہار آئی ہے اس بار کچھ لکھیں ہم بھی
سکھاؤ ہم کو بھی اس درد کو شجر کرنا
جعفر عباس
No comments:
Post a Comment