Monday, 12 July 2021

ہم ہی نے سیکھ لیا رہگزر کو گھر کرنا

 ہم ہی نے سیکھ لیا رہ گزر کو گھر کرنا

وگرنہ اس کی تو عادت ہے در بہ در کرنا

نہ اپنی راہ تھی کوئی نہ کوئی منزل تھی

تبھی تو چاہا تھا تجھ کو ہی ہمسفر کرنا

تھیں گرچہ گرد مِرے خامشی کی دیواریں

تمہارے واسطے مشکل نہیں تھا در کرنا

تِری نگاہ تغافل شعار کے صدقے

ہمیں بھی آ ہی گیا ہے گزر بسر کرنا

جو اب کے درد اٹھا دل میں آخری ہو گا

جو ہو سکے تو اسے میرا چارہ گر کرنا

میں چور چور ہوں دیکھو بکھر نہ جاؤں کہیں

مِری دعاؤں کو اتنا نہ بے اثر کرنا

بہار آئی ہے اس بار کچھ لکھیں ہم بھی

سکھاؤ ہم کو بھی اس درد کو شجر کرنا


جعفر عباس

No comments:

Post a Comment